منشیات…ایک لعنت
کوکین کوئین انمول عرف پنکی احاطہ عدالت میں جس شاہانہ انداز میں سیاہ چشمہ لگائے ہوئے کیٹ واک کرتی نظر آئی، وہ سین حیرت انگیز تھا، پولیس افسر پیچھے پیچھے مودب چلتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ہر طرف ایک شور مچا ہوا ہے۔ تمام چینلز کوکین کوئین پر پروگرام کر رہے ہیں، پوڈ کاسٹ بنا رہے ہیں، اخبارات میں روز نت نئی معلومات قارئین کو پڑھنے کو مل رہی ہیں۔
گزشتہ سال بالکل یہی منظر تھا اور ہم اور آپ کراچی میں ایک بے رحمانہ قتل کی خبریں پڑھ رہے تھے جس میں ارمغان نامی ایک نوجوان پر الزام تھا کہ اس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر مصطفیٰ عامر نامی نوجوان قتل کردیا اور اس کی لاش کو گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر بلوچستان لے گیا تھا اور وہاں اس گاڑی کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی تھی۔ وہ پکڑا گیا تو خبریں چلیں کہ اس کا باپ بھی ڈرگ اسمگلر تھا۔
ایک عرصے تک شہ سرخیوں میں یہ قتل کیس ڈسکس ہوتا رہا، پھر خبر کچھ عرصے بعد اندرونی صفحات پہ منتقل ہو گئی اور پھر غائب ہو گئی۔ آج کسی کو خبرکا نہ پتا کہ اس کیس کا کیا ہوا؟ انھی دنوں اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کا نام بھی خبروں میں بہت اچھلا۔اس پر بھی منشیات فروخت کرنے کا الزام تھا ۔ آج کس کو معلوم ہے کہ اس معاملے کا کیا بنا؟ اسی طرح مشہور منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ماڈل آیان علی بھی نامزد ہوئی تھی۔ بالکل آج جیسا ہی شور مچا تھا، وہ عدالت میں پورے میک اپ اور جدید لباس میں نظر آتی تھی۔ آج کسی کو اس کیس کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے۔ اب کوکین کوئین کیس کا چرچا ہے لیکن کچھ دنوں بعد یہ بھی غائب ہوجائے گا۔
ڈرگز کی فروخت اور ڈرگز کے اسمگلرز کی خبریں برسوں سے میڈیا میں آرہی ہیں، بس نام اور کردار تبدیل ہوتے ہیں، دھندہ بغیر رکاوٹ کے جاری و ساری رہتا ہے ۔ پنکی کوئی اچانک نمودار نہیں ہوئی، وہ گزشتہ تیرہ سال سے اس دھندے میں ملوث ہے۔ ارمغان کیس کی بھی جو تفصیلات آئی تھیں، کئی نام آئے تھے۔ اب بھی ایسا ہی ہوگا، چند دن بہت شور شرابہ ہوگا، پھر کہانی ختم! کوکین کوئین نے برملا کہا ہے کہ اس نے مختلف موقعوں پر گرفتاری سے بچنے کے لیے متعلقہ اداروں کے اہل کاروں کو بہت پیسہ کھلایا ہے، اگر یہ محض الزام ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ لیکن یہ بھی کھلا سچ ہے کہ سسٹم کے سٹیک ہولڈرز کی آشیرواد کے بغیر کوئی بھی جرم کرنا ممکن نہیں۔
اس عورت کی کہانی دیکھیے جو تیرہ سال سے اپنا نیٹ ورک چلا رہی تھی۔ یہ لیاری کے علاقے انگارہ گوٹھ میں پیدا ہوئی، منشیات کے حوالے سے لیاری ہمیشہ سے بدنام رہا ہے۔ ارد گرد کے ماحول نے اسے موقع فراہم کیا اور وہ محض چودہ سال کی عمر میں لاہور ماڈل بننے کے لیے چلی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے باقاعدہ جرائم کا راستہ اختیار کرلیا، اس کا نیٹ ورک کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک پھیلا ہوا ہے۔ اس نے اپنے نام کی منشیات بنا لیں۔ اسلام آباد میں جا کر یہ کئی ماہ تک وہاں رہی اور اپنی جیب سے خرچ کرکے بڑی بڑی پارٹیاں دیں، جن میں بزنس مین، سیاستدان، بیوروکریٹ اور کھلاڑیوں کو مدعو کرتی تھی۔
یہ ایک طرح کی مارکیٹنگ تھی جس میں اسے کامیابی حاصل ہوئی۔ اس کے دو سابقہ شوہر پولیس افسران تھے اور تیسرا شوہر ایک بزنس مین ہے۔ انمول عرف پنکی جس انداز میں عدالت میں پیش ہوئی وہ دراصل ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہمارے سماج کا اور نظام کا چہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کئی بار گرفتاری سے بال بال بچی اور مالی طور پر فیضیاب ہونے والوں کی سرپرستی سے بچ گئی۔ ابھی دیکھتے جائیے ، چند دن یا چند ہفتوں کے بعد انمول عرف پنکی کا پتا بھی نہ چلے گا کہ کہاں غائب ہوگئی۔
سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ کئی بار ملزمہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کسی عام مجرم کو گرفتار کرنا ہو تو پولیس فوراً حرکت میں آ جاتی ہے، لیکن انمول پنکی گرفتار نہ ہو سکی۔ وہ دن دہاڑے سڑکوں پر موت بیچ رہی تھی اور برملا کہہ رہی تھی کہ ’’روک سکو تو روک لو۔‘‘ اس کہانی میں کئی پردہ نشینوں کے نام بھی آتے ہیں، جو اپنے اپنے وقت پر انٹری دیں گے۔
البتہ پولیس کو اگر فری ہینڈ دیا جائے تو سارا کچھا چٹھا نکل کر آ جائے گا۔ انمول کا سارا نیٹ ورک کراچی میں تھا۔ منشیات کی ڈبیوں پر باقاعدہ ’’کوئین میڈم پنکی ڈان‘‘ درج تھا۔ اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کی ایک بڑی پروڈکشن لاہور میں ہوتی تھی جہاں اس کے دونوں بھائی بھی اس مذموم کاروبار میں اس کے ساتھ ہوتے تھے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ اس کے دونوں سابقہ شوہروں سے بھی تفتیش جاری ہے ۔
انمول عرف پنکی اکیلی اس دھندے میں ملوث نہیں ہے بلکہ بہت سے ڈرگ ڈیلر ہیں جو نوجوان طبقے کو موت کے منہ میں دھکیل رہے ہیں۔ ڈرگ ڈیلرز امیر گھرانوں کی مخلوط پارٹیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان کی سب سے بڑی شکار گاہیں تعلیمی ادارے ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں منشیات کی لت ایک بہت بڑا صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ پاکستان میں منشیات کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے جس میں نوجوان نسل ڈوب رہی ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ 2012 کے بعد منشیات کے حوالے سے پاکستان میں کوئی سروے نہیں ہوا۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے تعلیمی اداروں میں ڈرگ ڈیلر اپنے کارندوں کے ذریعے یہ زہر سپلائی کر رہے ہیں۔ پوش علاقوں سے لے کر دیگر علاقوں میں بھی منشیات باقاعدہ بیچی جا رہی ہیں۔ صورت حال بڑے شہروں کی بڑی دگرگوں ہے۔ اب والدین کو ہوش آ جانا چاہیے کہ وہ اپنی اولادوں پر نظر رکھیں، ان کے حلقہ احباب پر نظر رکھیں۔ منشیات کی لت میں نوجوان لڑکیاں بھی مبتلا ہو رہی ہیں جو ایک تشویش ناک بات ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ نشے کے مضر اثرات کے بارے میں اپنے بچوں کو بتائیں۔