سندھ میں خواجہ سرا ملازمت کوٹہ جسمانی معائنے کی شرط کے باعث تعطل کا شکار

خواجہ سرا برادری جسمانی معائنے کی اس شرط کو امتیازی اور توہین آمیز قرار دے رہی ہے

کراچی:

سندھ میں خواجہ سرا افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں میں مختص کوٹہ پر تقریباً چار سال گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے جس میں سب سے بڑی رکاؤٹ متعلقہ قانون میں خواجہ سراؤں کی جنس کی تصدیق کے لیے جسمانی معائنے کی شرط کا شامل ہونا ہے۔

خواجہ سرا برادری جسمانی معائنے کی اس شرط کو امتیازی اور توہین آمیز قرار دے رہی ہے، جبکہ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ ملازمتوں کے کوٹہ پر عمل درآمد کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا لازمی ہے۔

سندھ اسمبلی نے جولائی 2022 میں سندھ سول سرونٹس ترمیمی بل پاس کیا جس کے تحت صوبے میں آباد خواجہ سرا لوگوں کے لیے گریڈ 15 تک سرکاری ملازمتوں میں 0.5 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔ تاہم اس کے لیے ان کا اسٹینڈنگ میڈیکل بورڈ کے ذریعے جسمانی معائنہ لازمی قرار دیا گیا۔

مذکورہ قانون کے تحت میڈیکل بورڈ کی جانب سے ان کی جنس کی تصدیق کرنے کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ جاری کرے گا، جو انہیں ملازمت کے لیے متعلقہ سرکاری ادارے میں جمع کروانا ہوگا۔

کراچی میں خواجہ سرا برادری کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن اور جینڈر انٹرایکٹیو الائنس کی آپریشنل منیجر زحرش خانزادی کے مطابق سرکاری ملازمت کے لیے ان کے جسمانی معائنے کی شرط خواجہ سرا برادری کے لیے سراسر امتیازی سلوک ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیا سرکاری ملازمت کے لیے کبھی کسی مرد یا عورت سے ان کی جنس سے متعلق سرٹیفکیٹ مانگا گیا ہے؟ اگر نہیں تو خواجہ سرا برادری کے لیے یہ شرط کیوں رکھی گئی ہے۔

ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک بڑے عرصے تک خواجہ سرا لوگوں کے شناختی کارڈ نہیں بن رہے تھے، کافی عرصے کے بعد جب یہ مسئلہ حل ہوا اور انہیں قانونی طور پر شناخت ملی لیکن سرکاری اداروں میں ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب نادرا کے شناختی کارڈ میں واضح طور پر ان کی جنس درج ہے تو سرکاری ملازمتوں کے لیے ان کے جسمانی معائنے کی شرط کیوں لاگو کی گئی ہے۔

سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے رکن اور حکومت سندھ کے ترجمان سکھ دیو ہیمنانی کے مطابق متعلقہ قانون میں ان کے جسمانی معائنے کی شرط کا مقصد ملازمتوں کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے تاکہ حقیقی لوگوں کو ملازمت مل سکے۔

انہوں نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ حکومت سندھ نے اس قانون پر عمل درآمد کی شروعات کر دی ہے، حال ہی میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے خالی اسامیوں کے سلسلے میں دیے گئے اشتہار میں پہلی مرتبہ خواجہ سرا برادری کے لیے مختص کوٹہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے لیے وہ ہی لوگ درخواست دینے کے اہل ہوں گے جن کے پاس متعلقہ بورڈ کا میڈیکل سرٹیفکیٹ ہوگا۔

ادھر خواجہ سرا برادری کو ان کے لیے سرکاری ملازمتوں میں مختص کوٹہ پر بھی تحفظات ہیں، ان کے نزدیک 0.5 فیصد کوٹہ بہت کم ہے۔

زحرش خانزادی کا کہنا تھا کہ مذکورہ کوٹہ کے تناسب سے خواجہ سراؤں کے لیے 100 اسامیوں میں ایک بھی نوکری نہیں مل سکتی کیونکہ 100 اسامیوں کا 0.5 فیصد ایک نوکری کا بھی آدھا بنتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ پنجاب میں خواجہ سراؤں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں 2 فیصد کوٹہ مختص ہے، سندھ میں بھی یہ کوٹہ بڑھنا چاہیے۔

اس پر حکومت سندھ کے ترجمان سکھ دیو آسرداس کا کہنا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لیے مختص کردہ کوٹہ ان کی آبادی کے مطابق رکھا گیا ہے۔ اس لیے یہ کوٹہ نہیں بڑھایا جا سکتا۔ اس پر توجہ جب زہرش خانزادی کے سوال کی طرف مبذول کرائی گئی کہ 5۔0 فیصد کوٹہ 100 ملازمتوں پر ایک نوکری بھی نہیں بنتا، اس صورت میں وہ کس طرح مستفید ہوسکیں گے؟

اس پر انہوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ان کے کوٹہ کا اطلاق خالی اسامیوں کی کل تعداد پر ہو سکتا ہے، اس کے علاوہ حکومت سندھ کو یہ سفارش بھی کی جا سکتی ہے کہ  محکموں میں خالی اسامیوں کی تعداد میں اضافہ کرے۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے وائس چیئرمین قاضی خضر نے بھی خواجہ سرا برادری کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قانون سے خواجہ سراؤں کے جسمانی معائنے کی امتیازی شرط کو ختم کرے۔

ایکسپریس ٹربیون سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے جس طرح ہر ٹاؤن میں خواجہ سرا کی ایک نشست رکھی ہے اسی طرح ان کے لیے ملازمتوں میں بھی کم از ایک فیصد کوٹہ رکھا جائے۔

دریں اثنا، خواجہ سرا لوگوں کی آبادی یا کل تعداد کے حوالے سے بھی متضاد اعداد و شمار پائے جاتے ہیں۔

سال 2023 میں ہونے والی ڈجیٹل مردم شماری کے مطابق صوبہ سندھ میں خواجہ سرا لوگوں کی کل تعداد 4ہزار222 ہے جبکہ 2017 میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ایچ آئی وی ایڈز کے سلسلے میں کیے گئے سروے کے مطابق صرف کراچی میں ان کی تعداد 9ہزار 123 تھی۔

ادھر زہرش خانزادی کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری طور پر صوبہ سندھ میں خواجہ سرا برادری کی آبادی تقریباً 55 ہزار ہے جبکہ کراچی میں ان کی تعداد 18 ہزار سے زیادہ ہے۔