کراچی: جناح اسپتال کے ملازم نے اپنی فرم کو ٹھیکے دلوانےکےلیے سرکاری مکان میں متوازی دفتر قائم کرلیا

ملازم نے اسپتال کے مختلف ٹھیکے بھی مختلف وینڈروں کو مبینہ طور دلوانے کے لئے ایک نیٹ ورک بھی بنا رکھا ہے

جناح اسپتال کراچی میں کام کرنے والے ایک ملازم نے اسپتال کی حدود میں واقع سرکاری مکان میں وینڈروں اور مبینہ طور پر اپنی سپلائی فرم کو اسپتال کے ٹھیکے دلوانے کے لیے ایک متوازی دفتر قائم کر رکھا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس ملازم نے اسپتال کے مختلف ٹھیکے بھی مختلف وینڈروں کو مبینہ طور دلوانے کے لئے ایک نیٹ ورک بھی بنا رکھا ہے جبکہ مذکورہ ملازم نے اپنے بھائی کے نام سے سپلائی کمپنی بھی قائم کررکھی ہے جو ایف بی آر میں رجسٹرڈ بھی ہے۔

جناح اسپتال کے جوائنٹ ڈائریکٹر کا کہنا ہے مذکورہ ملازم کے خلاف کئی عرصے سے شکایتیں موصول ہورہی ہیں، اب انتظامیہ نے اس کے خلاف انکوائری شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جناح اسپتال میں سینئر کمپوٹر آپریٹر  عثمان 2011 میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہوا تھا ۔ اسے کچھ عرصے بعد اسپتال انتظامیہ نے مستقل   کردیاتھا ۔ملازم عثمان گجر کو اسپتال نے سینئر کمپیوٹر آپریٹر مقرر کیا تھا اس شخص نے اسپتال کی سرکاری رہائش گاہ کو اپنا ایک سرکاری افس بنا رکھا ہےجہاں وہ اپنی کمپنی مومی کے لئے اسپتال انتظامیہ پر دباؤ ڈالتا ہے  اور اپنا اثر ورسوخ استعمال کر کے اسپتال سے مختلف ٹھیکے آپنی کمپنی کے نام کرواتا تھا جبکہ اسپتال میں دیگر سپلائی فرموں کو ٹھیکے دلوانے کے لئے بھی کمیشن کے عوض کام کرتا ہے۔

جمعرات کو اس کی خفیہ کمپنی کا آفس کا انکشاف ہوا ہے، ایکسپریس ٹربیون نے ایف بی آر اور کنٹریکٹ تقرری کی دستاویزات بھی حاصل کرلی ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سرکاری رہائش گاہ میں اس نے سرکاری دفتر قائم کر رکھا ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مذکورہ ملازم کی مبینہ کمپنی  مومی انٹرپرائز کے نام سے ایف بی آر میں رجسٹرڈ ہے جس کو مسلسل  اسپتال کے  ٹھیکے بھی دیئے گئے ہیں۔

ملازم  عثمان گجر کمپیوٹر آپریٹر کی اسامی پر جناح اسپتال کے ڈائریکٹر افس میں تعینات ہے، معلوم یوا ہے کہ جناح اسپتال میں مومی انٹرپرائز کا ایف بی آر میں آفس ایڈریس جناح اسپتال کی اسٹاف کالونی کا دیاگیا ہے
 عثمان گجر کی مومی کمپنی جناح اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے مسلسل کئی سال سے جینیٹوریل ٹھیکے لے رہی ہے۔

کہا جارہا ہے کہ مومی کمپنی عثمان گجر کا بھائی نعمان گجر چلا رہا ہے، اسپتال کے ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ مذکورہ ملازم کی کمپنی کو جناح اسپتال کے میڈیکل ایکوپمنٹس و ڈیوائسز کی مینٹیننس کا بھی ٹھیکہ دیا گیا ہے۔

جناح اسپتال کی حدود میں سرکاری رہائش گاہ میں متوازی افس قائم کیے جانے کے حوالے سے ایکسپریس ٹربیون نے اسپتال کے جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد سیلمان سے رابطہ  کیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ عثمان گجر کے حوالے سے اسپتال انتظامیہ کو متعدد شکایتیں موصول ہورہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ جب عثمان کو طلب کرکے ان واقعات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہی تو عثمان گجر نے ایسے تمام واقعات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے بھائی کی سپلائی فرم مومی ہے لیکن میرا کوئئ تعلق نہیں۔

ڈاکثر محمد سیلمان نے بتایا کہ اسپتال  انتظامیہ اس کی رہائش گاہ پر نجی کمپنی کا آفس بنانے سے بھی لاعلم ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو جمعہ (کل) کو اس کے خلاف انکوائری کرانے کی سفارش کی جائے گی کیونکہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر چھٹیوں پر تھے تاہم وہ جمعہ سے اسپتال جوائن کریں گے اس کے بعد ہی عثمان کے خلاف انکوائری شروع کی جا سکے گی۔

انھوں نے  بتایا کہ عثمان کی فرم کو جینٹورل کے حوالے سے اس کی کمپنی نے ون کیا تھا اس ٹھیکہ دیا گیا۔

Load Next Story