نجکاری کیلیے اگلا ہدف بجلی کا سیکٹر ہے جو لائن لاسز کی مد میں بڑا بوجھ ہے،وزیر مملکت خزانہ
وزیر مملکت خزانہ و محصولات بلال اظہر کیانی کا کہنا ہے کہ تاجروں کو یقین دلاتا ہوں آپ کی تجاویز کو دیکھ کر آئندہ بجٹ سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا نجکاری کے حوالے سے اگلا ہدف بجلی کا سیکٹر ہے جو لائن لاسز کی مد میں قومی خزانے پر بڑا بوجھ ہے۔
راولپنڈی چیمبر آف کامرس میں بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا مزید کہنا تھا کہ بزنس کمیونٹی کے ایشوز کو وزیراعظم بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں، آپ کی بجٹ تجاویز حکومت کے پاس آچکی ہیں ان کو دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کچھ فسکل پابندیاں بھی ہیں، آئی ایم ایف کے پرائمری ٹارگٹس کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جاتا ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ کسی طرح بھی آسانی پیدا کرسکیں اور وہ کریں گے، بہت جگہوں پر بہتری کی گنجائش موجود ہے، ایف بی آر ریفارمز کے حوالے سے وزیراعظم ہر ہفتہ میٹنگ کرتے ہیں، ماضی میں ایسا فوکس نہیں کیا جاتا تھا، نظام کی شفافیت کیلئے فیس لیس کسٹم کا نظریہ لایا گیا ہے، گزشتہ مالی سال میں 803 ارب حکومت نے ٹیکس انفورسمنٹ کی مد میں حاصل کیا، سیکٹر بائی سیکٹر مینو فیکچرنگ کیپیسٹی کو دیکھا جا رہا ہے، ٹیکس پیئر کی ٹریٹمنٹ کے حوالے سے بہت بہتری کی گنجائش ہے ہم نہیں چاہتے بزنس کمیونٹی اکثریتی وقت ایف بی آر سے معاملات میں گزارے۔
انہوں ںے کہا کہ ٹیکس، روزگار، ایکسپورٹس بھی بنیادی طور پر بزنس کمیونٹی کو ہی دینا ہے، آنے والے بجٹ میں آپ کو اس کی عکاسی نظر آئے گی، پی آئی اے کی نجکاری کامیابی سے ہوئی، ماضی میں یہ کچھ وجوہات کیے باعث نہ ہو سکی اس نجکاری سے قومی خزانہ پر بوجھ بھی کم ہوا، اس کی سروس ڈیلیوری میں مزید بہتری آئے گی، نجکاری کا اگلا ہدف بجلی کا سیکٹر ہے، وزیر اعظم نے حال ہی میں ہاؤسنگ فائنانس سکیم کا افتتاح کیا ہے،یہ مڈل کلاس کے لئے ہے، امید ہے اس سکیم سے تعمیراتی سیکٹر میں بہتری آئے گی۔
بلال اظہر کیانی کا کہنا تھا کہ ایس ایم ایز فائنانسنگ کے لیے سمیڈا کو وزیراعظم نے ریفارم کیا ہے، اس کی اسٹیرنگ کمیٹی کو وزیر اعظم خود چیئر کرتے ہیں ہم نے فسکل ڈسپلن کو قابو میں رکھنا ہے ہم بار بار اتار چڑھاؤ دیکھتے ہیں، لیزر فوکس ہے کہ پالیسی میں ایکسپورٹ کو ترجیح دی جائے، فوکس ہے کہ گزشتہ دو سال میں استحکام حاصل کیا اس کے ساتھ آگے کیسے چلنا ہے، موجودہ حالات میں آج بھی ٹارگٹڈ سبسڈی جاری ہے۔