ٹرمپ نے اے آئی سے متعلق اپنا نیا حکم نامہ عین موقع پر روکدیا؛ حیران کن وجہ

اے آئی پابندیوں سے متعلق ایگزیکیٹو آرڈر پر دستخط کی تقریب کا بھی اعلان کردیا گیا تھا

صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کو مؤخر کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط مؤخر کر دیے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق اس ایگزیکیٹو آرڈر کا مقصد نئی اور طاقتور اے آئی ٹیکنالوجیز کے لیے حفاظتی ضوابط اور حکومتی نگرانی کا فریم ورک متعارف کرانا تھا۔

صدر ٹرمپ کو اس حکم نامے پر دستخط ایک خصوصی تقریب میں کرنا تھے تاہم آخری وقت میں یہ تقریب منسوخ کر دی گئی۔

اس فیصلے کی وجہ یہ بتائی کہ سخت قواعد امریکا کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اے آئی صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس سے چین کو عالمی دوڑ میں برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ امریکا اس وقت چین سمیت پوری دنیا سے آگے ہے اور میں ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتا جو اس برتری میں رکاوٹ بنے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ مجوزہ ضوابط امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی رفتار سست کر سکتے تھے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایلون مسک اور مارک زکربرگ سمیت ٹیکنالوجی کی دنیا کے کرتا دھرتا شخصیات کا دباؤ بھی اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ بنا ہے۔

اگرچہ میٹا اور ایکس کی انتطامیہ کی جانب سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

مجوزہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت اے آئی کمپنیوں کو جدید ماڈلز عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل امریکی حکومت کے ساتھ رضاکارانہ بنیادوں پر رابطہ اور حفاظتی جائزہ لینا ہوتا۔

اس فریم ورک کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ نئی اے آئی ٹیکنالوجیز قومی سلامتی، سائبر سکیورٹی اور حساس انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایک الگ اقدام کے تحت امریکی حکومت کو جدید اے آئی ماڈلز استعمال کرتے ہوئے سرکاری کمپیوٹر سسٹمز، بینکنگ نیٹ ورکس، اسپتالوں اور دیگر اہم معاشی شعبوں کی سائبر سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت بھی دینا چاہتے تھے۔

تاہم اس منصوبے کے مستقبل کے بارے میں اب غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

امریکا میں اس وقت طاقتور اے آئی سسٹمز کے ممکنہ خطرات پر شدید بحث جاری ہے۔

خاص طور پر اینتھروپک کے نئے اے آئی ماڈل مائی تھوز کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی پیچیدہ سائبر حملوں کو انتہائی طاقتور بنا سکتی ہے اگرچہ بعض سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اس شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کی ترقی تک محدود نہیں بلکہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی عالمی ٹیکنالوجی جنگ کا حصہ بن چکا ہے۔

ان کے بقول امریکا میں یہ خوف بڑھ رہا ہے کہ اگر امریکی کمپنیوں پر زیادہ ضابطے عائد کیے گئے تو چین مصنوعی ذہانت کے میدان میں تیزی سے آگے نکل سکتا ہے جبکہ دوسری جانب ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ مناسب حفاظتی قوانین کے بغیر طاقتور اے آئی سسٹمز مستقبل میں بڑے سکیورٹی اور معاشرتی خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

 

Load Next Story