منشیات فروشی

کوکین کوئین کی لاہور یا کراچی سے مبینہ گرفتاری منظر عام پر آنے کے بعد جو وی لاگرز اور یوٹیوبرز کسی اور اہم مسئلے کی تاک میں تھے

m_saeedarain@hotmail.com

کوکین کوئین کی لاہور یا کراچی سے مبینہ گرفتاری منظر عام پر آنے کے بعد جو وی لاگرز اور یوٹیوبرز کسی اور اہم مسئلے کی تاک میں تھے، انھیں اپنے ڈالروں کی کمائی برقرار رکھنے کا موقعہ مل گیا کیونکہ امریکی جنگ بندی کے بعد ان کا کام ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ اس لیے انھوں نے کوکین کوئین کی گرفتاری کو ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا اور ماڈرن ملزمہ میڈیا کا ملک گیر موضوع بن گئی۔

ملزمہ کے ایک مبینہ بیان پر اسے پی ٹی آئی کے مخصوص حلقوں نے باضمیر کردار بھی بنا دیا کہ سرکاری جبر کے آگے ملزمہ نے جھکنے سے انکار کیا اور وہ سیاست میں بھی اپنا کام دکھا کر پی ٹی آئی والوں کی بھی منظور نظر بن گئی۔ ملزمہ کو جس طرح تشہیر ملی، سینئر اداکار مصطفیٰ قریشی کے بقول یہ ملزمہ پنکی کے لیے سیاست میں آنے کی راہ اسی طرح ہموار ہو گئی ہے جس طرح بھارت میں مشہور ہونیوالی ڈاکو پھولن دیوی پارلیمنٹ پہنچ گئی تھی۔

کراچی میں چرس فروشی میں دو خواتین بھی ملزمہ پنکی کی گرفتاری کے بعد برقعوں میں گرفتار ہوئی تھیں جن میں ایک کو ایک سینئر اینکر نے چرس کی ملکہ قرار دینے کی کوشش کی تھی جو ناکام رہی جس کے بعد ایک اور کیس سامنے آیا اور عدلیہ کی تاریخ میں ایک جج سے متعلق معاملہ سامنے آیا اور کراچی کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے منشیات فروشوں کی سرپرستی کی شکایات سامنے آنے پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے مذکورہ جج سے متعلق شکایات کی، تحقیقات ہائی کورٹ کے ایک جج سے کروائی، تو جج کے خلاف شکایات درست ثابت ہونے پر انھیں برطرف کر دیا گیا۔

منشیات فروشی کی سرپرستی کرنے والے مذکورہ جج کو 25 روز پہلے برطرف کرنے کے الزامات ثابت ہوئے تھے اور برطرفی کے بعد بھی سابق جج خود بھی منشیات فروشی میں ملوث ہو گئے مگر پہلے مرحلے ہی میں منشیات کی بڑی مقدار کراچی سے لے جانے میں تو کامیاب رہے مگر ٹنڈو محمد خان پولیس کے ہاتھوں رنگے ہاتھوں پکڑے گئے اور گرفتار کر لیے گئے۔ شکارپور کے حوالے سے ایک پولیس افسر کراچی میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن اور دیگر اہم عہدوں پر تعینات رہنے والے اچھی شہرت کے حامل پولیس افسر رہے جن سے پہلی ملاقات ایس ایچ او نیو فوجداری سے ہوئی تھی اور کراچی میں اپنے ریٹائرمنٹ تک وہ راقم کو پولیس معاملات اور تفتیش کی اہم باتیں بتاتے تھے۔

جن میں ایک یہ بھی تھی کہ موبائل فونز اور مسروقہ مال کی خریداری سنگین جرم ہے مگر کراچی میں بڑی تعداد میں موبائل چھینے جاتے ہیں مگر یہ مسروقہ موبائل خریدنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی موثر طور نظر نہیں آتی۔ مسروقہ زیورات، موبائل فون چرانے والے ملزمان یہ مال کم نرخوں پر فروخت کر دیتے ہیں اور یہ سستا مسروقہ مال باآسانی فروخت ہو جاتا ہے جس میں کوئی ٹیمپرنگ بھی نہیں کرنا پڑتی۔ فروخت کنندہ اور خریدار کو بہت زیادہ منافع ہوتا ہے کیونکہ مسروقہ مال سستا ہی فروخت ہوا کرتا ہے۔

پولیس موبائل فونز چھیننے والوں کو تو پکڑتی نہیں اور خریداروں کو اسی صورت پکڑا جاتا ہے جب گرفتار ملزم خریدار کی نشان دہی کرتا ہے، اس لیے مسروقہ مال سستا خریدنے والے اکثر محفوظ رہتے ہیں اور کم ہی گرفت میں آتے ہیں اس لیے چوریاں اور ڈکیتیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اب نقدی چھینے جانے کی وارداتیں عام ہیں اور ملزم بہت کم پکڑے جاتے ہیں۔

ملک میں منشیات کی انسداد کے وفاقی اور صوبائی اداروں نے جب منشیات کے کاروبار کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہو تو اس مکروہ دھندے میں ملوث ملزمان پکڑے نہیں جاتے جس کے بعد یہ مذموم کاروبار اب آن لائن ہو گیا ہے اور منشیات خریداروں تک پہنچانے کے لیے خواتین کو ملازمت پر رکھا جاتا ہے کیونکہ خواتین کو پولیس کم ہی چیک کرتی ہے اور اب بائیک رائیڈروں کی خدمات حاصل کرکے منشیات فروشی کو جدید بنا کر تحفظ دے دیا گیا ہے۔عام تاثر ہے کہ علاقہ پولیس کی سرپرستی اور ملی بھگت کے بغیر منشیات فروخت ہو ہی نہیں سکتی اور پولیس کا یہ بھی موقف رہا ہے کہ قانونی طور اس کاروبار کے خلاف کارروائی کی ذمے داری پولیس سے زیادہ محکمہ ایکسائز اور اینٹی نارکوٹکس فورس اور منشیات کی بین الصوبائی نقل و حرکت روکنا کوسٹ گارڈ کا فریضہ ہے۔

یہ درست بھی ہے مگر پولیس نے اپنی کمائی کا ذریعہ منشیات کو ضرور بنا رکھا ہے۔ پاکستان میں منشیات کی روک تھام اور خاتمے کے لیے دو الگ الگ اور خودمختار ادارے پہلے سے کام کر رہے ہیں جن کی اپنی مجاز عدالتیں بھی موجود ہیں۔ ان اداروں کا بجٹ اربوں روپے کا ہے اور ان کی بنیادی ذمے داری منشیات کی خرید و فروخت اور اسمگلنگ روکنا ہے۔

 ایک سابق پولیس افسر کا کہنا ہے کہ سندھ پولیس انسداد منشیات کی قانونی طور ذمے دار نہیں متعلقہ ادارے ہیں جب کہ عوامی رائے میں پولیس نے اس کام کو اپنی کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے اور اب تو بعض عدالتیں بھی منشیات فروشوں کی سہولت کاری کر رہی ہیں جس کا ثبوت حال ہی میں گرفتار ہونے والے سابق جج نے دے دیا ہے جو اپنی عدالتی ڈیوٹی کے دوران جرائم پیشہ عناصر اور خصوصاً چیکنگ کے دوران عوام کو لوٹ کر رشوت لینے میں گرفتار اپنے خاص پولیس اہلکاروں کو جرم ثابت ہونے پر گرفتاری کے بعد پہلے خود تھانے آ کر چھڑا کر لے گئے تھے مگر اعلیٰ پولیس حکام کی ہدایت پر دوبارہ گرفتار ہو کر اسی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو فاضل جج نے ملزم پولیس اہلکاروں کی کھلے عام حمایت کی اور ان سب کو 63 سی آر پی سی کے تحت رہا کر دیا تھا۔یہ اہلکار ملی بھگت سے سنگین وارداتیں کرتے اور ایک بے گناہ کو چھوڑنے کے لیے اے ٹی ایم سے کیش وصول کر چکے تھے ۔

Load Next Story