دہائیوں کی دشمنی ہے، امریکا کیساتھ معاہدہ پیچیدہ اور وقت طلب ہے؛ ایران

ایران فی الوقت اپنے جوہری پروگرام پر بات نہیں کرے گا۔ یہ معاہدے کے 30 سے 60 دن کے بعد زیر غور آئے گا

فوٹو: ایرانی میڈیا

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا عمل پیچیدہ اور وقت طلب ہے کیونکہ ایران اور امریکا کے درمیان دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسماعیل بقائی نے بتایا کہ مختلف نکات اور تجاویز پر تبادلہ خیال جاری ہے تاہم بعض معاملات پر اب بھی اختلافات برقرار ہیں اور دونوں جانب سے تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کی ثالثی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان تجاویز کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ایران کا دورہ کیا جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ جنگ بندی، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ ایران نے فی الحال مذاکرات کا محور جنگ کے خاتمے کو بنایا ہے جس میں لبنان سمیت پورے خطے میں کشیدگی کم کرنا شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اس وقت اپنے جوہری پروگرام پر بات نہیں کرے گا۔ یہ معاہدے کے 30 سے 60 دن کے بعد زیر غور آئے گا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعتراف کیا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے تاہم اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کی جانب سے پابندیاں ختم کرنے، جنگی نقصانات کے ازالے، امریکی دباؤ کے خاتمے اور خطے میں مکمل جنگ بندی جیسے مطالبات پیش کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق سخت شرائط پر قائم ہے۔ جس کے باعث تاحال معاہدہ نہیں ہوسکا ہے۔

 

Load Next Story