بجٹ… ایک مانوس اجنبی سے ملاقات

ہر بحران کا بوجھ آخرکار انھی طبقات پر منتقل ہوتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں

منیر نیازی کا یہ المیہ رہا کہ ایک دریا پار کرنے کے بعد جو دیکھا تو ایک اور دریا کا سامناتھا۔ عوام کا بھی کچھ ایسا معاملہ ہے کہ خدا خدا کر کے مہنگائی کا سامنا کرنے کے بعد سال کے آخر میں جو دیکھتے ہیں تو ایک اور بجٹ کا سامناہوتا ہے۔ ہر حکومت یہی بتاتی ہے جو کچھ کمرتوڑ ہوا وہ پچھلوں کا کیا دھرا ہے، ہاں کچھ اچھاہوا تو اس کے لیے وہ اس دردمند موجودہ حکومت کو دعائیں دیں۔

ہر بجٹ سے قبل چند مانوس بیانات ضرور سنائی دیتے ہیں، مشکل کے دن اب ختم ہی سمجھیں کہ ‘‘معیشت استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘‘ عام آدمی سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اگر استحکام واقعی آ چکا ہے تو پھر عام آدمی کی زندگی میں بے یقینی کیوں بڑھ رہی ہے؟

بازاروں میں مندا کیوں ہے؟ صنعتیں کیوں بند ہو رہی ہیں؟ نوجوان کیوں روزگار سے محروم ہیں؟ اور غربت کی لکیر کے نیچے لڑھکنے والوں کی تعداد کیوں مسلسل بڑھ رہی ہے؟ خوشحالی کے منتظر لوگوں کے ہاں شب انتظار نے کیوں مستقل ڈیرے ڈال لیے ہیں کہ تلاش میں سرگرداں سحر بار بار گزرنے پر مجبور ہے!

حالات حاضرہ کی طرح پاکستانی معیشت ہمہ وقت ایک دائرے میں محو سفر ہے جہاں کم شرح نمو، بڑھتا قرض، محدود سرمایہ کاری، کمزور صنعتی پیداوار، مہنگی توانائی اوردم توڑتی قوتِ خرید ایک دوسرے کو ’’شہہ‘‘ دے رہے ہیں۔ معیشت کے بنیادی اشاریے یہی بتاتے ہیں کہ بحران وقتی نہیں بلکہ ساختی نوعیت اختیار کر چکا ہے یعنی ’’میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘‘ والا معاملہ ہے۔

وزارتِ خزانہ کے ماہانہ اقتصادی جائزوں، اسٹیٹ بینک کی رپورٹس اور آئی ایم ایف کے تازہ تخمینوں پر گہری نظر ڈالیں تو معاملات کی سنگینی اور پیچیدگی کا احساس ہو جاتا ہے کہ اگلے برس بھی معیشت 3.5 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی کی شرح اضافہ اڑھائی فیصد سے زیادہ ہو،یہ شرح نمو بمشکل آبادی کی شرح افزائش سے چند سانس دور ہے۔

صنعتی شعبہ مسلسل دباؤ میں ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کمزور، نجی سرمایہ کاری محدود اور کاروباری اعتماد قدرے غیرمستحکم ہے۔ شرح سود میں کمی ضرور آئی مگر صنعتکاروں کے مطابق اصل مسئلہ اب بھی مہنگی بجلی و گیس اور دستیابی میں بے یقینی، بھاری ٹیکسز اور کمزور ہوتی مارکیٹ ڈیمانڈ ہے۔

پاکستان میں پیداواری لاگت خطے کے کئی ممالک سے زیادہ ہو چکی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ صنعت پھلنے پھولنے کے بجائے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ زراعت کی حالت بھی زیادہ مختلف نہیں۔ کپاس، گندم اور دیگر بڑی فصلوں کی پیداوار میں کمی نے دیہی معیشت اور برآمدی شعبے دونوں کو متاثر کیا ہے۔

ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کا انحصار خوردنی تیل، دالوں، کپاس اور دیگر غذائی اشیاء کی درآمدات پر بڑھتا جا رہا ہے۔ پیداواری عمل میں معیشت اندر سے کمزور اور درآمدات کی زیادہ محتاج ہو رہی ہے۔

پاکستانی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ صرف کمزور نمو نہیں بلکہ اس کا فرسودہ معاشی ڈھانچہ ہے۔ معیشت عملاً ’’ایلیٹ کیپچر‘‘ کا شکار ہے جہاں ریاستی وسائل، ٹیکس، مراعات، سبسڈیز، مالیاتی سہولتیں اور پالیسی سازی کا بڑا حصہ طاقتور طبقات کے گرد گھومتا ہے جب کہ اس کی قیمت متوسط اور کم آمدنی والے طبقات ادا کرتے ہیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتیں مالیاتی نظم و ضبط کی بات تو کرتی ہیں مگر اپنی شاہ خرچیوں میں کمی پر آمادہ نہیں۔ شاہی پروٹوکول، سرکاری گاڑیاں، غیرضروری انتظامی ڈھانچے، خسارے میں ڈوبے سرکاری ادارے اور نمائشی اخراجات بدستور جاری ہیں۔ کفایت شعاری کے دعوے اور پلان اپنی جگہ مگر ایلیٹ مراعاتی نظام میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔

اس سب کے ساتھ کرپشن بدستور معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ غور کریں تو مسئلہ صرف رشوت یا مالی بدعنوانی کا نہیں بلکہ پورے گورننس ماڈل کا ہے، جہاں پالیسی سازی طاقتور مفادات کے گرد گھومتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہر بحران کا بوجھ آخرکار انھی طبقات پر منتقل ہوتا ہے جو پہلے ہی ٹیکس نیٹ میں موجود ہیں۔ جو’’سمجھدار یا جی دار‘‘ ٹیکس نیٹ یعنی دستاویزی معیشت سے باہر ہیں وہ نان فائلر کی ’’بخشیش‘‘ دے کر راوی کے لکھے ہوئے سکھ چین کی زندگی گزارتے ہیں۔

پاکستان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ وسائل اور اخراجات میں عدم مطابقت، قرضوں پر دارومدار ، کم ویلیو ایڈڈ اور مایوس کن پیداواری صلاحیت یعنی Poor Productivity اوردرآمدی انحصار پر استوار ہے۔ برآمدات محدوداور فروتر مالیت پر مبنی ہے، معیشت میں نئی ٹیکنالوجیز کا رجحان ناکافی اور ویلیو ایڈیشن نہ ہونے کے برابر ہے۔

دوسری طرف غیردستاویزی معیشت کا حجم مسلسل دستاویزی معیشت پر بھاری ہے۔ ہر نئے بجٹ میں آسان راستہ یہی اختیار کیا جاتا ہے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقات کو مزید نچوڑ لیا جائے۔ اسی لیے آنے والے بجٹ سے بھی یہی مانوس خدشات ہیں۔

آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اسٹاف لیول معاہدے کے تحت حکومت کومحصولات میں نمایاں اضافہ، توانائی شعبے میں ’’کاسٹ ریکوری‘‘، سبسڈیز میں مزید کمی اورمالیاتی سرپلس کے سخت اہداف حاصل کرنا ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایف بی آر محصولات کا ہدف 14 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر سکتا ہے۔ یہ رقم کہاں سے آئے گی؟

غالب امکان یہی ہے مانوس شعبوں پر ہی تکیہ یعنی بجلی، گیس اور پٹرولیم پر مزید بوجھ منتقل ہوگا، بالواسطہ ٹیکس بڑھیں گے اور تنخواہ دارودستاویزی شعبہ دوبارہ آسان ہدف بنے گا۔ یہی وہ مانوس معاشی اقدامات ہیں جو برس ہابرس سے حقیقی معیشت کے سکڑنے اور غیررسمی معیشت کے پھیلنے کا باعث ہیں۔

حکومتی کریڈٹ بجا کہ مہنگائی کی رفتار کم ہوئی ہے مگر عوام کی روزمرہ زندگی سستی نہیں ہوئی۔ بجلی،گیس، علاج، تعلیم اور ٹرانسپورٹ وقت کے ساتھ ساتھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ متوسط طبقہ سکڑ رہا ہے، نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملک سے باہر مستقبل تلاش کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

دوسری طرف ورلڈ بینک کے مطابق کمزور شرح نمو اور معاشی جھٹکوں نے مزید لاکھوں پاکستانیوں کو غربت کی لکیر کے نیچے دھکیل دیا ہے۔

داخلی معاشی مشکلات کے ساتھ اب کے سال عالمی بے یقینی بھی جڑ گئی ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ نے عالمی منڈیوں میں سپلائی شاکس پیدا کیے ہیں۔

پاکستان گزشتہ سال کی پاک بھارت جنگ اور حالیہ دنوں میں سفارتی اور سیکیورٹی محاذ پر نسبتاًبہتر پوزیشن میں ہے۔ تاہم ان کامیابیوں کی پائیداری کے لیے لازم ہے کہ معاشی استحکام کی صورت پیدا کی جائے۔

پاکستان کو اس وقت محض ایک اور ’’آئی ایم ایف کمپلائنٹ‘‘ بجٹ نہیں بلکہ ایک نئے معاشی نظام کی ضرورت ہے جس میں ریاست اپنی شاہ خرچیاں کم کرے، غیرپیداواری اخراجات محدود کرے، ٹیکس بوجھ منصفانہ اندازمیں تقسیم کرے اور معیشت کو کم ویلیو ایڈڈسرگرمیوں سے نکال کر پیداواری، برآمدی اور ٹیکنالوجیز پر مبنی سمت میں لے جائے۔

ورنہ ایک بار پھر مانوس اجنبی یعنی بجٹ سے ایک اورمانوس ملاقات کے سوا شاید ہی کچھ حاصل ہو۔بجٹ کاغذوں میں کامیاب ہوگا، حکومت استحکام کے اعداد وشمار پر شادیانے بجائے گی مگر عوام کے حصے میں مسلسل بے یقینی، مہنگائی اور معاشی تھکن ہی آئے گی۔

Load Next Story