تاریخ بے رحم ہوتی ہے
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ کسی بوڑھی درویش عورت کی طرح ایک خاموش گلی کے کونے میں بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی ہے، وہ کچھ کہتی نہیں ہے مگر وقت گزرنے کے بعد وہ اپنے زرد اوراق کھولتی ہے اور پھر بڑے سکون سے لکھ دیتی ہے کہ کون انسانیت کے ساتھ کھڑا تھا اور کون ظلم کے بازار میں خاموش تماشائی بنا رہا۔
آج دنیا کے کئی شہر ملبے میں بدل رہے ہیں۔ کہیں بچوں کے کھلونے گرد میں دبے ہوئے ہیں، کہیں ماؤں کی چیخیں بارود کے دھوئیں میں گم ہو رہی ہیں اور کہیں نوجوان اپنے خوابوں سمیت سرحدوں کے آرپار دفن کیے جا رہے ہیں مگر ان سب کے درمیان سب سے زیادہ خوفناک چیز شاید انسان کا عادی ہو جانا ہے۔ ہم خبر کی سرخیوں پر بہتا ہوا خون دیکھتے ہیں، چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔
تاریخ مگر اتنی جلدی معاف نہیں کرتی۔ وہ ان دانشوروں کے نام بھی محفوظ رکھتی ہے جو ظلم کے زمانے میں لفظوں کی حرمت بچاتے رہے، وہ ان عورتوں کو بھی یاد رکھتی ہے جو تباہ شدہ شہروں میں بچوں کے لیے روٹی ڈھونڈتی رہیں، وہ ان نوجوانوں کو بھی نہیں بھولتی جو جیلوں، سنسرشپ اور دھمکیوں کے باوجود سچ بولتے رہے۔
تاریخ ان لوگوں کو بھی یاد رکھتی ہے جنھوں نے اپنے مفادات، اپنی کرسی اور اپنے فائدے کے لیے انسانیت کو نظرانداز کیا۔ یہ دنیا عجیب دوراہے پر کھڑی ہے۔ طاقتور ریاستیں امن کی بات کرتے ہوئے جنگیں بیچ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے دعوے دار بچوں کی لاشوں پر سفارتی جملے لکھ رہے ہیں۔ قوم پرستی کے شور میں انسان کہیں کھو گیا ہے۔ ہر طرف جھنڈے بلند ہیں مگر انسان جھک گیا ہے۔
مجھے اکثر فیض صاحب یاد آتے ہیں۔ جنھوں نے کہا تھا:
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
شاید ہم اب بھی اسی ادھوری صبح میں زندہ ہیں۔ میں اکثر یہ سوچتی ہوں کہ آنے والی نسلیں ہمارے زمانے کے بارے میں کیا پڑھیں گی؟ کیا وہ یہ جان سکیں گی کہ اس عہد میں انسان نے چاند تک پہنچنے کی صلاحیت حاصل کر لی تھی مگر اپنے ہی بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ۔کیا وہ یہ پڑھیں گی کہ مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی دل مزید ویران ہو گئے تھے؟ کہ ترقی کے شور میں رحم، شرم اور محبت پیچھے رہ گئے تھے۔
تاریخ بے رحم ہوتی ہے کیونکہ وہ بہانے قبول نہیں کرتی۔ وہ یہ نہیں سنتی کہ معیشت خطرے میں تھی یا سفارتی تعلقات خراب ہو سکتے تھے یا خاموش رہنا سیاسی مجبوری تھی۔ تاریخ صرف یہ دیکھتی ہے کہ ظلم کے وقت آپ کہاں کھڑے تھے۔
اسی لیے شاید آج سب سے بڑی ذمے داری صرف بولنا نہیں بلکہ انسان رہنا ہے۔ ایسے وقت میں جب نفرت ایک سیاسی ہتھیار بن چکی ہو، محبت اور امن کی ضرورت اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ جب جھوٹ کو اجتماعی سچ بنا دیا جائے تو سچ بولنا عبادت معلوم ہوتا ہے۔
دنیا کے ہر تاریک عہد میں کچھ لوگ چراغ جلاتے رہے ہیں۔ شاید امید انھی لوگوں سے وابستہ ہے۔ شاید تاریخ کے بے رحم فیصلوں کے باوجود انسانیت نے ابھی مکمل طور پر شکست نہیں کھائی۔شاید آنے والے زمانے میں کوئی بچہ کسی کتاب کے صفحے پر یہ پڑھ سکے کہ اندھیروں کے اس دور میں بھی کچھ لوگ تھے جو حق کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس کے ساتھ ہیں۔ وقت تو گزر جاتا ہے مگر وہ یہ یاد رکھتا ہے کہ آپ کس طرف کھڑے تھے۔
شاید ہمارے عہد کا سب سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ انسان آہستہ آہستہ درد محسوس کرنے کی صلاحیت کھوتا جا رہا ہے۔ خبروں کے مسلسل شورنے المیوں کو معمول بنا دیا ہے۔ اب کسی اجڑے ہوئے شہر کی تصویر ہمیں زیادہ دیر بے چین نہیں رکھتی، کسی بچے کی چیخ چند لمحوں بعد ایک اور سرخی کے نیچے دب جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا نے دکھ کے ساتھ جینا نہیں بلکہ دکھ کو نظرانداز کرنا سیکھ لیا ہے۔
یہ زمانہ عجیب تضاد سے بھرا ہوا ہے۔ انسان نے علم کی نئی کائنات دریافت کر لی ہے، مصنوعی ذہانت تخلیق کر لی ہے، سمندروں کی تہہ اور خلا کی وسعتوں تک پہنچ گیا ہے مگر اپنے ہی دل کے اندھیروں کو روشن نہیں کر سکا۔
ترقی کی چکاچوندمیں اخلاق کی روشنی مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ طاقتور ملک انصاف کی زبان بولتے ہیں مگروہ ہتھیاروں کی تجارت میں اندھے ہوگئے ہیں۔ سیاست خدمت سے زیادہ خوف پیدا کرنے کا فن بن گئی ہے اور سچ اکثر مصلحت کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
ہر عہد میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جوخاموشی کے بازار میں بھی سچ کی آواز بلند کرتے ہیں۔ کوئی استاد اپنے شاگرد میں سوال کرنے کا حوصلہ زندہ رکھتا ہے، کوئی ادیب لفظوںکی حرمت بچاتا ہے، کوئی نوجوان دھمکیوں کے باوجود ظلم کے خلاف کھڑا رہتا ہے۔
یہی لوگ دراصل انسانیت کی اصل امید ہوتے ہیں۔ شاید آنے والا زمانہ انھی چراغوں کی روشنی میں ہمارے عہد کو یاد رکھیے گا۔