جیکب آباد، کچے میں کریک ڈاؤن، ڈاکوؤں کے مورچے نذرِ آتش، مشکوک افراد گرفتار
پولیس نے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ کومبنگ اینڈ سرچ آپریشن مزید تیز کرتے ہوئے متعدد مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ کئی مورچوں، خفیہ ٹھکانوں اور سہولت کاری کے مراکز کو تباہ کرکے نذرِ آتش کردیا۔
پولیس حکام کے مطابق مشترکہ آپریشن جہاں واہ، جاگن اور گرد و نواح کے کچے کے علاقوں میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی، بکتر بند گاڑیوں اور بھاری نفری کی مدد سے جاری ہے۔
مختلف داخلی و خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی کرکے نگرانی مزید مؤثر بنادی گئی ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت روکی جاسکے۔
ایس ایس پی جیکب آباد فیضان علی کے مطابق سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کے دوران کئی مشتبہ پناہ گاہوں کو مسمار کیا گیا جبکہ شک کی بنیاد پر گرفتار افراد کو تفتیش کے لیے مختلف تھانوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو حالیہ واقعے میں ملوث ملزمان کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کچے کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ چند روز قبل آباد تھانے کی حدود میں ڈی ایس پی سعود آباد اعجاز ترین کے اہلخانہ کی گاڑی پر ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔
واقعے کے وقت گاڑی ڈی ایس پی کے بیٹے چلا رہے تھے جبکہ گاڑی میں ڈی سی خیرپور الطاف چاچڑ کے اہلخانہ بھی موجود تھے۔
فائرنگ کے نتیجے میں ڈی ایس پی اعجاز ترین کی 12 سالہ بیٹی اور ان کے کزن کی بیٹی زخمی ہوگئی تھیں، جنہیں طبی امداد کے بعد سکھر منتقل کیا گیا تھا۔ اہلخانہ کے مطابق دونوں بچیاں اب صحت یاب ہو کر گھر واپس پہنچ چکی ہیں۔
دوسری جانب ڈی ایس پی اعجاز ترین کے بیٹے میجر فراز ترین نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے اہلخانہ کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشن بلا تعطل جاری رہے گا اور ملوث ملزمان کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔