راہ چلتی لڑکیوں، خواتین رائیڈرز سے بدتمیزی کے واقعات
راہ چلتی لڑکیوں اور خواتین رائیڈرز کیساتھ بدتمیزی کے واقعات میں اضافہ ،4 ماہ میں 25 ہزار شکایات سامنے آئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے چھوٹے بڑے شہروں میں خواتین کی ڈرائیونگ اور الیکٹرک بائیک چلانے کے تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
دوسری طرف سڑکوں پر راہ چلتے مرد خواتین کو اسٹاکنگ کا نشانہ بناتے ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون اور روزنامہ ایکسپریس کو حاصل ڈیٹا اور معلومات کے مطابق سال 2024 میں 80 ہزار سے زائد خواتین نے سڑکوں اور عوامی مقامات پر مسائل کی شکایات درج کروائیں۔
سال 2025 میں یہ شرح بڑھ جو ایک لاکھ تک جا پہنچی اور سال 2026 اپریل تک 4 ماہ میں 25 ہزار سے زائد خواتین نے شکایات درج کرائیں ہیں ۔
صرف لاہور شہر میں 90 فیصد خواتین رائیڈرز کا کہنا ہے کہ مرد ڈرائیور جان بوجھ کر ان کے قریب گاڑیاں چلاتے ہیں تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے۔
اس ضمن میں مقامی یونیورسٹی کی ماہرِ نفسیات پروفیسر ڈاکٹر طاہرہ ملک کا کہنا ہے کہ جس علاقے میں خواتین رائیڈرز کی تعداد زیادہ یو خاتون پٹرولنگ آفیسرز کی تعیناتی کرنی چاہیے۔
ملازمت پیشہ اسکوٹی چلانے والی خاتون اقراء کا کہنا ہے کہ مرد ڈرائیورز اکثر یہ برداشت نہیں کر پاتے کہ ایک لڑکی ان سے آگے نکل جائے، وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر خطرناک کٹ مارتے ہیں ٹریفک انسپکٹر حمیرہ رفاقت کا کہنا ہے کہ سڑک پر موجود مردوں کو اخلاقیات سکھانا اصل چیلنج ہے۔