اسٹاک ایکسچینج میں نئی لسٹنگز معیشت کیلیے ناگزیر قرار
سروس لانگ مارچ ٹائرزکے 75 فیصد شیئرز پر مشتمل 5.8 ارب روپے کے ریکارڈ ابتدائی عوامی شیئرزصرف پانچ سیکنڈمیں سبسکرائب ہونے کے بعد ماہرین نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں مزید کمپنیوں کی فہرست سازی کو معاشی ترقی کیلیے ناگزیر قراردیدیا۔
ماہرین کے مطابق غیر معمولی کامیابی نے واضح کر دیاکہ پاکستان میں معیاری کارپوریٹ سرمایہ کاری کیلیے بے پناہ طلب موجودہے،جسے بروئے کار لاکر معیشت کو نجی شعبے کی قیادت میں مضبوط اقتصادی طاقت بنایاجا سکتاہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی لسٹنگز معیشت کی دستاویزی شکل، شفافیت اور ٹیکس نیٹ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، پبلک لسٹڈ کمپنیاںمالیاتی ریکارڈ عوام اور ریگولیٹری اداروں کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہوتی ہیں، جس سے غیردستاویزی کاروبار اور جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ٹیکس چوری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
ماہرین نے کہاکہ آئی پی او پراسپیکٹس کے سخت قواعدسرمایہ کاروں کوکمپنی کی مالی صورتحال،خطرات اور سرمایہ کاری کی حکمت عملی سے متعلق مکمل معلومات فراہم کرتے ہیں، جو نجی کاروباروں میں عموماً دستیاب نہیں ہوتیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیاگیاکہ لسٹڈکمپنیاں عموماً خاندانی اورفردِ واحد پر مبنی انتظامیہ سے نکل کر پیشہ ورانہ اور خودمختار بورڈزکی طرف منتقل ہوتی ہیں،جس سے کارپوریٹ گورننس مضبوط اور ادارے زیادہ پائیدار بنتے ہیں۔
ماہرین نے ماضی کی ٹیکس مراعات بحال کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہاکہ چندسال قبل آئی پی اوکمپنیوں اورسرمایہ کاروں کودی گئی ٹیکس چھوٹ نے سرمایہ کاری کو فروغ دیا تھا، حکومت کو دوبارہ ایسی مراعات متعارف کروانی چاہئیں، تاکہ نئی کمپنیاں اسٹاک مارکیٹ میں آنے کی طرف راغب ہوں۔
رپورٹ میں کہاگیاکہ مضبوط ایکویٹی مارکیٹ سرمایہ کو غیر پیداواری شعبوں جیسے پلاٹس،جعلی اسکیموں،کرنسی اورکرپٹو اثاثوں سے نکال کرصنعتی اور پیداواری شعبوں میں منتقل کرسکتی ہے، جس سے معیشت میں مقابلہ، شفافیت اورروزگارکے مواقع بڑھیں گے۔
گروتھ انٹرپرائز مارکیٹ بورڈچھوٹے ودرمیانے درجے کے کاروبارکیلیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوسکتاہے،جہاں سے وہ ترقی پا کر مرکزی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔
ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں زیادہ کمپنیوں کی شمولیت سے مارکیٹ کاحجم اور شعبہ جاتی تنوع بڑھے گا،جس سے اتار چڑھاؤ و مارکیٹ میں ہیراپھیری کے امکانات کم ہونگے،غیر ملکی سرمایہ کاروں کااعتمادبھی بحال ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق صرف آئی پی اوزکی خواہش کافی نہیں، اس کیلیے معاشی استحکام،مستقل پالیسیوں، ٹیکس اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن ،ٹیکس چوری و اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔