سعودیہ اور پاکستان کو بھی اسرائیل کیساتھ ابراہام معاہدے میں شامل ہوجانا چاہیئے؛ ٹرمپ
ایران کیساتھ امن معاہدہ یا جنگ پر صورت حال ففٹی ففٹی ہے؛ صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو مشرقِ وسطیٰ میں تعلقات کی ایک بڑی سفارتی تبدیلی قرار دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ خطے کے متعدد اسلامی ممالک کو ابراہام معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہیے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہفتے کے روز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، ترکیہ، پاکستان، قطر اور مصر کی قیادت سے گفتگو کی۔
انھوں نے مزید بتایا کہ گفتگو میں، میں نے زور دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے بعد ان ممالک کو “ابراہام معاہدوں” میں مشترکہ طور پر دستخط کرکے لازمی شمولیت اختیار کرلینی چاہیے۔
صدر ٹرمپ نے بالخصوص سعودی عرب اور قطر کو فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدوں پر دستخط کرنے کا آغاز کرنا چاہیے اور باقی ممالک کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔
انھوں نے خبردار بھی کیا کہ اگر کوئی ملک ابراہام معاہدے میں شامل نہیں ہونا چاہتا تو اسے ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے خراب نیت ظاہر ہوگی۔
امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو اسلامی جمہوریہ ایران کا خود ابراہام معاہدوں میں شامل ہونا بھی باعثِ اعزاز ہوگا۔
صدر ٹرمپ کے بقول ایسا ہونے کی صورت میں مشرقِ وسطیٰ دنیا کا سب سے زیادہ متحد، طاقتور اور معاشی طور پر مضبوط خطہ بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ کے بقول امریکا نے خطے میں ایک انتہائی پیچیدہ سفارتی پہیلی کو حل کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے اس لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی اس عمل کا قدرتی اگلا مرحلہ ہونا چاہیے۔
انھوں نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی اسرائیل کے ساتھ ابراہام معاہدوں کا حصہ ہیں جبکہ دیگر ممالک کو بھی جلد ابراہام معاہدے میں شامل ہوجانا چاہیے۔
امریکی صدر نے ابراہم معاہدوں کی افادیت بتاتے ہوئے کہا کہ ان معاہدوں میں شامل ممالک سوڈان، مراکش اور قازغستان کے لیے مالی، معاشی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کو بھی سراہا کہ ایران کے ساتھ جنگ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود کسی بھی رکن ملک نے ابراہام معاہدے سے الگ ہونے یا انھیں معطل کرنے کی بات تک نہیں کی۔
واضح رہے کہ ابراہام معاہدے پہلی مرتبہ 2020 میں ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں طے پائے تھے جن کے تحت کئی متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت متعد عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔