حج: بندگی، قربانی اور روحانی بیداری کا سفر

حج یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندگی میں پوشیدہ ہے

’’حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ بے شک تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، ہر نعمت تیری عطا ہے، بادشاہی تیری ہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

یہ روح پرور صدائیں جب فضاؤں میں گونجتی ہیں تو ہر مسلمان کا دل عشقِ الٰہی، عقیدت اور روحانی سرشاری سے لبریز ہو جاتا ہے۔ حج اسلام کا پانچواں رکن اور عظیم ترین عبادات میں سے ایک ہے، جو ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض قرار دی گئی ہے۔ یہ محض چند مناسک کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت، بندگی، قربانی، عاجزی اور اپنے رب کے سامنے مکمل سپردگی کا عملی مظہر ہے۔

ہر سال دنیا بھر سے لاکھوں فرزندانِ توحید مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں تاکہ بیت اللہ کے سائے میں اپنے رب کی رضا اور قرب حاصل کر سکیں۔ خانہ کعبہ کا روح پرور طواف، صفا و مروہ کی سعی، میدانِ عرفات میں بہنے والے آنسو، مزدلفہ کی خاموش راتیں اور لبیک کی گونجتی صدائیں انسان کو ایسی روحانی کیفیت میں ڈبو دیتی ہیں جہاں دنیا کی تمام رنگینیاں اور خواہشات ماند پڑ جاتی ہیں۔ حج انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اصل کامیابی دنیاوی آسائشوں میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور بندگی میں پوشیدہ ہے۔

حج کی تکمیل کے بعد قربانی کی سنت ادا کی جاتی ہے، جو حضرت ابراہیمؑ کی بے مثال اطاعت اور اللہ کی رضا کے لیے ہر شے قربان کر دینے کے عظیم جذبے کی یاد تازہ کرتی ہے۔ یہ عمل صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، انا اور دنیاوی محبتوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے تابع کر دینے کا درس بھی دیتا ہے۔

جو خوش نصیب حج کی سعادت حاصل نہیں کر پاتے، وہ بھی ان بابرکت دنوں میں عبادات، ذکر و اذکار، دعا اور قربانی کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب حرمین شریفین کے ایمان افروز مناظر میڈیا پر دکھائی دیتے ہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل بیت اللہ کی محبت، عقیدت اور حاضری کی تڑپ سے بھر جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پوری امتِ مسلمہ روحانی طور پر ایک ہی مرکز کے گرد جمع ہو گئی ہو۔

اگر حج کی تاریخ اور اس کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عبادت حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی لازوال قربانیوں، صبر، توکل اور کامل اطاعت کی عظیم داستان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اسلامی روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ اس مقدس گھر کی بنیاد صرف اللہ واحد کی عبادت، توحید کے اعلان اور انسانیت کی روحانی رہنمائی کے لیے رکھی گئی تھی، اور آج بھی دنیا بھر کے مسلمان اسی مرکزِ توحید کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں حضرت ابراہیمؑ نے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہؑ اور شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کے حکم کے مطابق بے آب و گیاہ وادیِ مکہ میں چھوڑ دیا۔ پانی کی تلاش میں حضرت ہاجرہؑ کا صفا اور مروہ کے درمیان بے قرار دوڑنا انسانی جدوجہد، ماں کی محبت اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی عظیم مثال بن گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت اسماعیلؑ کے قدموں کے نیچے سے زمزم کا چشمہ جاری ہوا، جو آج بھی لاکھوں حاجیوں اور زائرین کے لیے رحمت، برکت اور شفا کا سرچشمہ ہے۔ یہی عظیم واقعہ حج کے اہم رکن ’’سعی‘‘ کی بنیاد بنا اور قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایمان و یقین کی علامت ٹھہرا۔

بعد ازاں حضرت ابراہیمؑ کو خواب میں اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم ملا۔ انہوں نے بلا تردد اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیا، جبکہ حضرت اسماعیلؑ نے بھی صبر، رضا اور اطاعت کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی اور خلوص کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک دنبہ قربان کر دیا۔ یہ واقعہ رہتی دنیا تک اطاعت، صبر، ایثار اور اللہ کی رضا کے لیے ہر شے قربان کر دینے کی لازوال علامت بن گیا، اور اسی یاد میں مسلمان ہر سال سنتِ ابراہیمی ادا کرتے ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ مختلف ادوار میں لوگوں نے خانہ کعبہ کے اصل مقصد یعنی خالص توحید سے انحراف کیا، مگر اسلام نے آ کر ایک بار پھر اس مقدس گھر کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز بنا دیا۔ نبی کریم ﷺ نے خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر کے توحید کا وہ پیغام دوبارہ زندہ کیا جو حضرت ابراہیمؑ کی تعلیمات کا بنیادی مقصد تھا۔

حج کے دیگر اہم ارکان، خصوصاً وقوفِ عرفات، بھی گہری روحانی معنویت رکھتے ہیں۔ میدانِ عرفات کو مغفرت، دعا، توبہ اور عاجزی کا مقام سمجھا جاتا ہے، جہاں لاکھوں مسلمان اپنے گناہوں کی معافی مانگتے، آنسو بہاتے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کرتے ہیں۔ اس منظر میں انسان کو قیامت کے دن کی جھلک محسوس ہوتی ہے، جب تمام انسان اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے۔

حج مسلمانوں کے لیے نہ صرف ایک عظیم عبادت ہے بلکہ اتحادِ امت، مساوات، صبر، قربانی، ایثار، بھائی چارے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مکمل بندگی کا عملی درس بھی ہے۔ احرام میں ملبوس لاکھوں انسان رنگ، نسل، زبان، قومیت اور معاشرتی حیثیت کے تمام فرق مٹا کر ایک ہی رب کے حضور کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہی منظر اسلام کے آفاقی پیغامِ مساوات اور وحدتِ انسانیت کی سب سے خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔

آج کے مادہ پرستانہ اور نفسانفسی کے دور میں حج انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی اصل حقیقت عارضی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہی دائمی حقیقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حج ہر مسلمان کے دل میں عشقِ الٰہی، بندگی، عاجزی اور روحانی بیداری کی ایک نئی کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو حج و عمرہ کی سعادت نصیب فرمائے، اپنی بارگاہ میں حاضری قبول فرمائے اور ہمیں حضرت ابراہیمؑ، حضرت ہاجرہؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی اطاعت، صبر اور قربانی کے جذبے کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story