ایران میں 3 ماہ بعد انٹرنیٹ کی مرحلہ وار بحالی شروع ہوگئی
ایرانی صدر نے ملک میں انٹرنیٹ بحال کرنے کا حکم دیدیا
ایرانی صدر نے ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کی بحالی کا حکم جاری کر دیا جس کے بعد ایران میں 87 دن سے جاری تقریباً مکمل انٹرنیٹ بندش ختم ہونے کی امید پیدا ہوگئی۔
ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق وزارتِ مواصلات کے ایک ذریعے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر نے انٹرنیٹ بحالی کے فوری اقدامات کی ہدایت دی ہے۔
صدر مسعود پزیشکیان کے حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مرحلہ وار انٹرنیٹ سروسز بحال کی جائیں گی تاہم حکام کی جانب سے مکمل بحالی کے ٹائم فریم کے بارے میں ابھی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
خیال رہے کہ ایران میں گزشتہ 87 دنوں سے سخت انٹرنیٹ بلیک آؤٹ نافذ تھا۔ یہ پابندی ایسے وقت میں لگائی گئی تھی جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور حملوں کے دوران ملک میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے تھے۔
اس دوران انٹرنیٹ بندش نے نہ صرف عوامی رابطوں کو متاثر کیا بلکہ آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل سروسز پر انحصار کرنے والی کمپنیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچایا۔ معاشی سرگرمیوں، بینکنگ سسٹمز اور کاروباری لین دین بھی شدید متاثر ہوا۔
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے فروری کے آخری روز ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای پوری عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے جس کے بعد سے تاحال کشیدگی برقرار ہے گو مذاکراتی عمل بھی جاری ہے۔