اے آئی سے ڈیجیٹل غلامی جنم لے گی اور انسان صرف ڈیٹا بن کر رہ جائیں گے؛ پوپ لیو
فوٹو: اے پی
پوپ لیو چہادہم نے اپنی پاپائیت کی پہلی بڑی مذہبی اور فکری دستاویز جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو غیر مسلح کرنا ضروری ہے ورنہ دنیا نئی قسم کی ڈیجیٹل غلامی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ویٹی کن میں پیش کی گئی اس اہم دستاویز کا عنوان عظیم انسانیت رکھا گیا تھا۔ جس میں انھوں نے کیتھولک چرچ کی جانب سے غلامی کے تاریخی کردار پر بھی روشنی ڈالی اور معذرت بھی کی۔
پوپ نے لکھا کہ ماضی میں غلامی کے دوران انسانوں نے جس تکلیف اور ذلت کا سامنا کیا اسے دیکھ کر گہرا دکھ محسوس ہوتا ہے جس پر میں چرچ کی جانب سے مخلصانہ معافی مانگتا ہوں۔
جس میں پوپ لیو نے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے بڑے مواقع بھی رکھتی ہے لیکن اگر اس پر اخلاقی اور قانونی قدغنیں نہ لگائی گئیں تو یہ انسانی استحصال، جنگ اور سماجی ناانصافی کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ انھوں نے غیر مسلح جیسا سخت لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا کیونکہ موجودہ دور ایسے الفاظ کا تقاضا کرتا ہے جو دنیا کی توجہ حاصل کر سکیں۔ دنیا اس وقت ایک ایسے اخلاقی موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال سے نئی ڈیجیٹل غلامیاں جنم لے سکتی ہیں۔
پوپ لیو نے خبردار کیا کہ اے آئی کی تیاری اور استعمال میں بھی انسانوں کے استحصال کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر احتیاط نہ کی گئی تو دنیا ماضی کی غلامی کی طرح ایک نئی شکل کے استحصالی نظام کو معمول سمجھنے لگے گی۔
انہوں نے خاص طور پر جنگوں میں اے آئی کے استعمال پر شدید تنقید کی اور کہا کہ خودکار ہتھیاروں اور AI سے چلنے والے جنگی نظام انسانی کنٹرول کو کمزور کرتے ہیں جس سے جنگ کو اخلاقی قرار دینا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
پوپ لیو نے مزید کہا کہ کوئی الگورتھم جنگ کو اخلاقی نہیں بنا سکتا بلکہ مصنوعی ذہانت جنگ کو زیادہ غیر انسانی اور بے رحم بنا سکتی ہے کیونکہ اس سے تشدد کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے اور انسان محض ڈیٹا میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔
انھوں نے سیاست اور سوشل میڈیا میں اے آئی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جعلی تصاویر، ویڈیوز اور گمراہ کن مواد عوام کو متعصب اور غلط معلومات کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
پوپ لیو نے اے آئی ڈویلپرز کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہر ڈیزائن اور پروگرامنگ فیصلہ دراصل انسانیت کے بارے میں ایک نظریہ پیش کرتا ہے اس لیے ٹیکنالوجی بنانے والوں پر اخلاقی اور روحانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پوپ کی یہ دستاویز مستقبل میں اے آئی کے اخلاقی استعمال، خودکار ہتھیاروں، ڈیجیٹل نگرانی اور عالمی قوانین کے حوالے سے جاری مباحثے پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔
ویٹی کن میں اس دستاویز کی رونمائی کے موقع پر امریکی اے آئی کمپنی اینتھروپک کے شریک بانی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی سے متعلق سوالات صرف ٹیکنالوجی ماہرین تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے اہم ہیں۔