عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر میں خوفناک دھماکا؛ تیل کا اخراج شروع
عمان کے آئل ٹینکر میں دھماکا؛ تیل کا اخراج شروع
آبنائے ہرمز کی بندش اور وہاں جاری کشیدگی کے دوران عمان کے ساحل کے قریب ایک آئل ٹینکر میں خوفناک دھماکا ہوا ہے جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس بات کی تصدیق بحری جہازوں کی سیکیورٹی پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے 'یو کے میرین ٹریڈ آپریشنز نے کی اور مزید بتایا کہ یہ واقعہ خلیج عمان میں مسقط سے تقریبا 60 ناٹیکل میل مشرق میں پیش آیا۔
فوری طور پر دھماکے کی وجوہات کا تعین نہیں کیا جا سکا تاہم دھماکا باہر سے لگنے والی کسی چیز کے باعث ہوا۔ جہاز کا عملہ محفوظ ہے تاہم جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔
جہاز کے کپتان نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے کے بعد کچھ بنکر فیول (امدادی ایندھن) سمندر میں بہنا شروع ہو گیا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ جہاز کو کس نے اور کیوں نشانہ بنایا ہے جب کہ دھماکا کس چیز سے ہوا اس کی تحقیقات بھی ابھی جاری ہیں۔
تاہم اس واقعے سے محض چند گھنٹے قبل امریکی افواج نے ایران میں میزائل داغنے والی جگہوں اور ان کشتیوں پر رات گئے حملے کیے تھے۔
جن کے بارے میں امریکی حکام کا دعویٰ تھا کہ وہ خلیجی پانیوں میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
تاحال کسی نے بھی عمان کے ساحل پر آئل ٹینکر دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ امریکا اور ایرانی حکام نے اس حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
یادرہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے پانیوں میں سمندری بارودی سرنگیں بچھائی ہوئی ہیں جب کہ امریکا نے بھی جواباً ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے۔
جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے دنیا بھر میں تیل و گیس کی ترسیل بمشکل ہو پا رہی ہے اور پیٹرول کی قلت کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ بندی مذاکرات بھی جاری ہیں اور فریقین کے جلد کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کافی روشن ہیں۔