مودی سرکار نے نئی دہلی کی 113 سالہ تاریخی عمارت کو خالی کرنے کا حکم دیدیا
مودی سرکار کا 113 سالہ قدیم دہلی جیمخانہ کلب کو بند کرنے کا فیصلہ
بھارتی حکومت نے گزشتہ ہفتے 113 سالہ تاریخی اور اشرافیہ میں بے حد مقبول دہلی جیمخانہ کلب کو 5 جون تک اپنی 27.3 ایکڑ اراضی خالی کرنے کا حکم دیدیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے بعد شہر میں اس ادارے کے مستقبل، نوآبادیاتی ورثے اور اشرافیہ کی مراعات پر نئی بحث چھڑ گئی۔
حکومتی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ وزیر اعظم مودی کی رہائش گاہ کے قریب ایک انتہائی حساس اور اسٹریٹجک زون میں واقع ہے اور اب اسے دفاعی انفرااسٹرکچر اور قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ کلب کی لیز فوری طور پر ختم کی جارہی ہے۔
حکومتی نوٹس ملنے کے بعد کلب انتظامیہ اور اراکین نے اس فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا جہاں سماعت کے دوران وفاقی حکومت نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 5 جون کو فوری قبضہ نہیں کیا جائے گا اور قانون کے مطابق نوٹس دینے کے بعد ہی کوئی کارروائی ہوگی۔
عدالت نے مزید کہا کہ اس صورت میں کلب، اس کے ملازمین اور اراکین دوبارہ عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔
خیال رہے کہ دہلی جیمخانہ کلب ان چند تاریخی عمارتوں میں شمار ہوتا ہے جو برطانوی دور سے آج تک اپنی اصل شناخت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
یہ کلب 1913 میں “امپیریل دہلی جمخانہ کلب” کے نام سے قائم کیا گیا تھا جب برطانوی حکومت نے کلکتہ سے دہلی کو دارالحکومت منتقل کیا۔
ابتدا میں یہ برطانوی فوجی افسران اور سول حکام کا مرکز تھا بعد ازاں 1928 میں اسے صفدر جنگ روڈ پر موجودہ مقام الاٹ کیا گیا۔
کلب کی موجودہ عمارت 1930 کی دہائی میں معروف برطانوی معمار رابرٹ ٹار رسل نے ڈیزائن کی تھی جنھوں نے دہلی کے مشہور علاقے کنہاٹ پیلس کا نقشہ بھی تیار کیا تھا۔
جس میں کشادہ برآمدے، بلند چھتیں، سرسبز لان اور قدیم طرزِ تعمیر اس کلب کو نئی دہلی کی تاریخی شناخت کا حصہ بناتے ہیں۔
برطانوی دور میں یہ کلب ہندوستانی سول سروس کے ان محدود بھارتی افسران کی تربیت گاہ بھی سمجھا جاتا تھا جنہیں نوآبادیاتی اشرافیہ میں جگہ ملتی تھی۔
یہاں بال روم ڈانس، برطانوی آداب اور سماجی روایات سکھائی جاتی تھیں۔ 1947 کی تقسیم ہند کے دوران بھی یہ مقام تاریخی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔
جب بھارتی اور پاکستانی فوج کے وہ افسران جو جلد ایک دوسرے سے جدا ہونے والے تھے آخری بار یہیں اکٹھے ہوئے تھے۔
2013 میں کلب کی صد سالہ تقریبات کے دوران بھارت کے سابق صدر پرانب مکھرجی نے یاد دلایا تھا کہ مہاتما گاندھی اور برطانوی وائسرائے لارڈ ارون کے درمیان تاریخی ملاقات بھی اسی کلب میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں “گاندھی-ارون معاہدہ وجود میں آیا۔
آزادی کے بعد اگرچہ کلب کے نام سے “امپیریل” کا لفظ ہٹا دیا گیا لیکن اس کی اشرافیہ طرز کی روایات برقرار رہیں۔ یہاں رکنیت حاصل کرنا ہمیشہ مشکل سمجھا جاتا رہا ہے۔ درخواست گزار کو موجودہ اراکین کی سفارش درکار ہوتی ہے اور منظوری انتظامی کمیٹی دیتی ہے۔
ناقدین کے مطابق اس نظام نے دہلی کی اشرافیہ، اعلیٰ سرکاری افسران اور طاقتور خاندانوں کے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا۔
مودی حکومت 2014 سے دہلی کی روایتی انگریزی بولنے والی اشرافیہ کے اثرات کم کرنے کی بات کرتی رہی ہے۔ اسی تناظر میں گزشتہ برسوں کے دوران کلب کے مالی معاملات اور رکنیت کے طریقہ کار کی تحقیقات بھی کی گئیں۔
2022 میں ایک سرکاری ٹریبونل نے کلب کی منتخب انتظامیہ تحلیل کرکے حکومت کو منتظمین مقرر کرنے کی اجازت دی تھی جس پر بعض اراکین نے شدید اعتراض کیا تھا۔
کلب کی ممکنہ بندش پر سخت تنقید دیکھنے میں آئی، تاریخی ورثے کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ اس سے دہلی جیم خانہ کلب اپنا تاریخی ماقام کھو دے گا جس سے دنیا صرف ایک عمارت نہیں بلکہ اپنی نوآبادیاتی، سیاسی اور سماجی تاریخ کے ایک اہم باب سے بھی محروم ہو جائے گی۔