زرعی پیداوار بڑھانے کیلیے ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی پالیسی منظور

کپاس کی کم پیداوارکے بعد حکومت کا تبدیل شدہ فصلوں کے فروغ کا فیصلہ

اسلام آباد:

کپاس کی تاریخی کم پیداوارکے بعد وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے زرعی پیداوارمیں اضافے اور جدید زرعی تقاضوں سے ہم آہنگی کیلیے تین سالہ نیشنل ایگریکلچرل بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 تیارکرلی،جسے وفاقی کابینہ نے منظورکرلیا۔

پاکستان میں چند برس قبل کپاس کی سالانہ پیداوار صرف 50 لاکھ گانٹھوں تک گرگئی تھی، جو گزشتہ 40 برس کی کم ترین سطح تھی،جبکہ ماضی میں اوسط پیداوار ایک کروڑ 20 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں کے درمیان رہی ہے، ملک کی ٹیکسٹائل صنعت کو سالانہ تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ گانٹھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

کابینہ کو بریفنگ میں بتایاگیاکہ دنیاکے کئی ممالک پہلے ہی بائیوٹیکنالوجی پالیسیاں نافذکرچکے ہیں، اس لیے پاکستان کیلیے بھی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (GM) فصلوں کے فروغ کیلیے جامع پالیسی ناگزیر تھی، تاکہ جدیدزرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایاجاسکے اورجینیاتی انجینئرنگ سے متعلق خطرات سے تحفظ یقینی بنایاجاسکے۔

وزارتِ غذائی تحفظ کے مطابق پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کے شعبے میں وسیع صلاحیت موجودہے،جس کیلیے تربیت یافتہ سائنسدان، مضبوط ریگولیٹری نظام اور جدید تحقیقی مراکز دستیاب ہیں،تاہم واضح اور مربوط حکمتِ عملی نہ ہونے کے باعث ملک اس شعبے سے مکمل فائدہ نہیں اٹھاسکا۔

یہ بھی بتایاگیاکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل  نے اکتوبر 2023 میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ اجسام (GMO) پالیسی کی تیاری کی ہدایت دی تھی،جس کے بعد پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل  اور نیشنل سیڈڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے ماہرین نے مشاورت کے بعد پالیسی کوحتمی شکل دی۔

وفاقی کابینہ نے 4 دسمبر 2025 کو وزارتِ غذائی تحفظ کی جانب سے پیش کی گئی سمری کی منظوری دیدی۔

Load Next Story