بجٹ، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کےلیے تجاویز تیار

حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن نافذ کرنے جا رہی ہے

حکومت مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مسلح افواج کے اہلکاروں کے لیے ڈیفائنڈ کنٹریبیوٹری پنشن (DCP) نافذ کرنے جا رہی ہے، جس کا اعلان وزیر خزانہ اپنے بجٹ خطاب میں کریں گے۔ سول شعبے میں نئے بھرتی ہونے والوں کے لیے یہ کنٹریبیوٹری پنشن گزشتہ بجٹ سے ہی نافذ کی جا چکی ہے۔

حکومت آئی ایم ایف پروگرام کی سخت شرائط میں رہتے ہوئے بھی سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ افراد کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لیے تین مختلف تجاویز تیار کر لی ہیں۔

حکومت نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی منظوری کے امکان کوسی پی آئی کی بنیاد پرافراط زر سے مربوط کردیا ہے جس کے بارے میں توقع ہے کہ یہ گزرتے مالی سال میں اوسطاً 7.5فیصد رہے گا۔

اس طرح وزارتِ خزانہ کے ریگولیشن ونگ نے سرکاری و عسکری ملازمین کے لیے ایڈہاک الاؤنس کی مد میں تنخواہوں اور پنشن میں 5 فیصد، 7.5 فیصد اور 10 فیصد اضافے کی تین تجاویز تیار کی ہیں۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ابھی کچھ حتمی نہیں ہوا کیونکہ ان تمام تجاویز پر آئی ایم ایف سے بات چیت ہوگی، جس کے بعد وفاقی کابینہ منظوری دے گی اور پھر وزیر خزانہ انہیں بجٹ تقریر میں پیش کریں گے۔

اصل مالی گنجائش ہی اس بات کا تعین کرے گی کہ آئی ایم ایف سے آئندہ دنوں میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اضافی ریلیف الاؤنس کا حجم کتنا ہوگا۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ میں 5 سے 10 فیصد تک کمی کی بھی درخواست کی ہے، تاہم یہ بھی مالی گنجائش دستیاب ہونے پر منحصر ہوگا۔

آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے تحت حکومت نے آئندہ بجٹ سے قبل مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے 2 فیصد کے برابر بنیادی سرپلس حاصل کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو تقریباً 3 کھرب روپے بنتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور اخراجات کم کرنے کے ذریعے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا۔

Load Next Story