اسرائیل اور امریکا کو ناکوں چنے چبوانے والے شہید محمد عودہ کون تھے؟

عز الدین الحداد کی شہادت کے بعد عملاً محمد عودہ نے القسام بریگیڈ کی کمان سنبھال لی تھی

محمد عودہ نے عزالدین الحداد کی شہادت کے بعد عملاً القسام بریگیڈ کی کمان سنبھال لی تھی

حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ عز الدین الحداد کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد ان کی جگہ لینے والے محمد عودہ نے بھی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

محمد عودہ کو اسرائیل نے ایک رہائشی عمارت کی بالائی تین منزل کو فضائی حملے میں نشانہ بناکر ساتھیوں سمیت شہید کیا حالانکہ یہ عمارت ایک پُرہجوم بازار میں قائم تھی جہاں عید کے باعث غیرمعمولی رش تھا۔

اسرائیلی فوج کی خفیہ ایجنسی نے محمد عودہ کی شہادت کو شاندار کامیابی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ کئی ماہ تک حماس کمانڈر کی انٹیلی جنس نگرانی کی گئی، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹریکنگ کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا وہ محمد عودہ کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی تھیں۔ عمارت کی بالائی تین منزلوں کو بیک وقت مختلف سمتوں سے کم از کم پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک اور قریبی اپارٹمنٹ پر بھی حملہ کیا گیا جہاں ایک ایسے حماس رکن کی موجودگی کا علم ہوا تھا جو 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں شریک تھا اور محمد عودہ کے قریبی معاونین میں شمار ہوتا تھا۔

مئی کے وسط میں عزالدین الحداد کی شہادت کے بعد ان کے جانشین بننے والے محمد عودہ کو حماس کی القسام کی سربراہی کا موقع چند دن ہی مل سکا لیکن حماس کی عسکری کارروائیوں میں ان کی طویل تاریخ رہی ہے۔

شہید محمد عودہ کو گزشتہ دو دہائیوں سے حماس کی عسکری اور انٹیلی جنس شعبوں میں اہم کردار ادا کرنے والی شخصیات میں شمار کیا جاتا تھا۔ عز الدین الحداد کے بعد سب سے اہم رہنما تھے۔

محمد عودہ غزہ کے شمالی علاقے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے اور نوعمری میں ہی 1987 میں حماس کے قیام کے ابتدائی دور میں تنظیم سے وابستہ ہوگئے تھے اور ترقی کرتے کرتے کمانڈر انچیف کے عہدے تک پہنچے۔

ابتدا میں وہ حماس کے داخلی سکیورٹی ونگ “مجد” سے منسلک رہے، جو تنظیم کے اندر مشتبہ مخبروں اور اسرائیل کے لیے کام کرنے والے افراد کی نگرانی کرتا تھا۔ بعد ازاں وہ القسام بریگیڈز میں شامل ہوئے تھے۔

القسام میں محمد عودہ کی حیران کن عسکری صلاحیتیں سامنے آئیں۔ اسرائیلی فورسز کو چکمہ دینے اور گھات لگا کر کامیاب حملوں نے انھوں رفتہ رفتہ عسکری انٹیلی جنس کے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ 

اسرائیلی فوج اور سکیورٹی اداروں کے مطابق محمد عودہ کئی برس تک حماس کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے سربراہ رہے اور انھوں نے 7 اکتوبر 2023 کے حملوں سے قبل اسرائیلی فوجی اڈوں، سرحدی نگرانی کے نظام اور جنوبی اسرائیل میں اہداف سے متعلق معلومات جمع کرنے اور حملوں کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

محمد عودہ کی کامیاب عسکری کارروائیوں اور ان کی ہیبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے انھیں 7 اکتوبر حملے کے مرکزی منصوبہ سازوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ 

رپورٹس کے مطابق محمد عودہ نے غزہ جنگ کے دوران شمالی غزہ بریگیڈ کی کمان بھی سنبھالی تھی۔ خاص طور پر اس وقت جب حماس کے سینئر کمانڈر احمد غندور اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے محمد عودہ کو حماس کے ان چند سینئر رہنماؤں میں شمار کرتے تھے جو مسلسل اسرائیلی حملوں کے باوجود معجزانہ طور پر زندہ بچنے میں کامیاب رہے تھے۔ 

رواں ماہ کے وسط میں القسام بریگیڈز کے سربراہ عزالدین الحداد کی شہادت کے بعد محمد عودہ کو عسکری ونگ کی قیادت سونپے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اگرچہ حماس نے ان کی تقرری کا باضابطہ اعلان نہیں کیا تھا، لیکن اسرائیلی اور مغربی میڈیا کے مطابق وہ عملاً القسام بریگیڈز کے نئے سربراہ بن چکے تھے۔

ان کی یہ قیادت صرف چند دن جاری رہی اور وہ غالباً حماس کی تاریخ کے مختصر ترین مدت تک خدمات انجام دینے والے عسکری سربراہ ثابت ہوئے۔

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ محمد عودہ حالیہ جنگ کے دوران شہید کیے جانے والے حماس کے چوتھے بڑے عسکری سربراہ تھے جن سے پہلے یحییٰ السنوار، محمد السنوار اور عزالدین الحداد کو نشانہ بنایا جا چکا تھا۔

فلسطینی نوجوان محمد عودہ کی پُراسرار شخصیت اور بہادری کے قصوں سے بہت متاثر ہیں اور انھیں اپنا آئیڈیل ہیرو مانتے ہیں۔ ان کی شہادت کی خبر غزہ کے مسلمانوں پر غم کا پہاڑ بن کر گری۔

 

Load Next Story