بات چیت ابھی جاری ہے، تاحال امریکا کیساتھ معاہدہ طے نہیں پایا؛ ایران
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدے کے نکات پر متفق ہوگیا ہے
ایران نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور مذاکرات بدستور جاری ہیں۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ امریکا کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت ابھی مکمل طور پر طے نہیں پائی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے نمائندوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں، بات چیت جاری ہے لیکن ابھی کئی معاملات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔
ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے مستقبل اور اس میں جہاز رانی کے انتظام کا انحصار ایران اور عمان پر ہوگا کیونکہ ان دونوں کے پاس آبنائے ہرمز کو چلانے کا مشترکہ منصوبہ موجود ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت بنیادی طور پر جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، جبکہ جوہری معاملات فی الحال مذاکرات کا مرکزی موضوع نہیں ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر نے کہا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم میں اپنے مشیروں کے ساتھ اجلاس کر رہے ہیں تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جا سکے۔
صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کو اس بات پر اتفاق کرنا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔
انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا پابندی کے عالمی بحری آمدورفت کے لیے کھولنا ہوگی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو امریکا بھی آبنائے ہرمز میں ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی ختم کردے گا۔ وہاں موجود جہاز اور عملہ اپنے گھروں کو واپسی کی تیاری کرلیں۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کی صورت میں ایران کو اس بات کا بھی یقین دلانا ہوگا کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔