7 ارب ڈالر کا سراب اور ایم او یوز کی روایتی فیکٹریاں
ہانگژو میں دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے بزنس مین اور پاکستانی حکام بیٹھے تھے، قلم کاغذ پر چل رہے تھے اور سات ارب ڈالر کے معاہدوں (MOU's) کی فائلیں ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہو رہی تھیں۔ لگ تو ایسا ہی رہا تھا کہ بس پاکستان دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشت بننے والا ہے۔ یہ خام سوچ تھی کیونکہ پاکستان میں دھماکوں کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے لڑ رہی ہوں۔
جہاں بدامنی کی فضا نے مقامی سرمایہ کاروں کو بھی سرمائے کی پرواز پر مجبور کر دیا ہو۔ وہاں 7 ارب ڈالر کا غیر ملکی سرمائے کا آنا کوئی عام معاشی واقعہ نہیں ہے۔ سرمایہ کاری کرتے وقت معاشیات یہ اصول فراہم کرتا ہے کہ ’’تحفظ اور قانون کی بالادستی‘‘ کو پہلے دیکھا جائے۔
میری اپنی رائے یہ ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار ملک کی جی ڈی پی گروتھ انفلیشن اور دیگر معاشی اشاریوں کو پہلے ایک طرف کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ پہلے یہ بتاؤ کہ امن و امان کی صورت حال کیا ہے؟ میری جان و مال کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات موجود ہیں، رشوت اور سرخ فیتہ اور مختلف محکموں کی طرف سے یہ مطالبہ کہ ہمارا حصہ کتنا ہوگا، ہو سکتا ہے ایسا غلط ہو، لیکن مجموعی رائے اس پر متفق ہے۔ کچھ نہ کچھ رشوت طلب کر لی جاتی ہے اور کہیں بالکل ہی نہیں۔
گزشتہ دو دہائی سے زائد کا عرصہ ہو گیا، پاکستان نائن الیون کے بعد سے اب تک 150 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کر چکا ہے۔ ہزاروں فوجی جوان اور افسر بدامنی کا شکار ہو گئے، ہزاروں شہری بم دھماکوں، فائرنگ اور دیگر طریقوں سے شہید ہو گئے۔ جب ایک سڑک ایک تھانے کی عمارت ایک چیک پوسٹ ایک پل پر حملہ کرکے اسے تباہ کر دیا جاتا ہے جو صرف انفرااسٹرکچر کا نقصان نہیں ہوتا بلکہ ملک کا عوام کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ برآمدات میں زبردست کمی واقع ہو جاتی ہے۔
وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اب تک معاہدوں کا 30 فی صد عملی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایک اہم معاشی خبر ہے، ان معاہدوں میں فوجی فرٹیلائزر اور چینی کمپنی کا ایک ارب 12 کروڑ ڈالر کا منصوبہ، کھاد اور زراعت کے شعبے کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوگا۔ چین کا 100 ملین کا زرعی منصوبہ اس سلسلے میں ملتان میں ریجنل آفس کا قیام یہ ظاہر کرتا ہے کہ وسطیٰ پنجاب کا علاقہ سیکیورٹی کے لحاظ سے چینی کمپنیوں کے لیے کسی حد تک قابل قبول ہے، لیکن بہت سے معاہدے ابھی بھی ایسے ہیں جوکہ مفاہمت کی یادداشتوں کے بریف کیس میں بند ہیں۔ یہ معاہدے اس وقت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں اور بدامنی کا موجودہ تسلسل اسی غیر یقینی کو جنم دے رہا ہے۔
ان معاہدوں کا انتہائی امید افزا پہلو یہ ہے کہ 5 لاکھ نوجوانوں کو ’’کلاؤڈ کمپیوٹنگ‘‘ کی تربیت دی جائے گی اور اردو AI ماڈل کی تیاری ہے۔ ڈیجیٹل معیشت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اسے کسی فزیکل سپلائی چین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک سافٹ ویئر انجینئر تلہ گنگ کے گاؤں تھوہا محرم خان کے کسی بند کمرے میں بیٹھ کر عالمی مارکیٹ کے لیے کام کر سکتا ہے، لیکن یہاں پر ایک تشویش ناک پہلو بھی ہے جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے بدامنی سے بچانے کے لیے ریاست سب سے پہلا وار انٹرنیٹ اور موبائل سروسز پر کرتی ہے، کبھی دو دن کبھی تین دن تک انٹرنیٹ سروس بند رہتی ہے۔ ایسی صورت حال تو سب کچھ اڑا کر رکھ دیتی ہے، تمام معاہدے ملیا میٹ ہو کر رہ جاتے ہیں، ان کا تو پہلے بندوبست کرنا پڑے گا۔
یہاں پر ایک اور بات انتہائی قابل غور ہے کہ جس طرح سیکیورٹی کے اخراجات بھی بڑھ رہے ہیں، پانی، بجلی، گیس ،پٹرول کی قیمت مسلسل بار بار بڑھ ہی رہی ہے۔ ایسے میں کراچی کے چھ ہزار ایکڑ پر محیط اسپیشل اکنامک زون میں کارخانے لگ بھی گئے تو کیا اسی طرح سستے ہوں گے جیسے بنگلہ دیش، ویتنام یا دیگر ملکوں کے ہیں، اس طرف توجہ دینا ہوگی اور حکومت کو سب سے پہلے امن و امان کی صورتحال کو بالکل ہی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کی معاشی پالیسی اور داخلی سیکیورٹی پالیسی کے درمیان عدم تفاوت پایا جا رہا ہے، اگر ریاست نے بدامنی کے اس عفریت کو کنٹرول نہ کیا تو یہ 7 ارب ڈالر کے معاہدے ایک تاریخی دستاویز بن کر رہ جائیں گے۔ بغیر مستقل امن قائم کیے۔ چینی سرمایہ کار ملک کے مختلف علاقوں میں کس طرح آزادانہ نقل و حرکت کر سکتے ہیں۔ ورنہ اسی طرح 7 ارب ڈالر کے سراب ہم یاد کرتے رہیں گے اور ان میں ایم او یوز کی روایتی فیکٹریاں قائم ہوں گی، لہٰذا اصلاح احوال امن بحالی لاگت میں کمی ان باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔