کراچی میں پاکستان ریلویز کی ایک ارب 42 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی اراضی واگزار
فوٹو: ایکسپریس نیوز
پاکستان ریلویز کراچی ڈویژن نے شہر میں بڑا آپریشن کرکے ایک ارب 42 کروڑروپے سے زائد مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرالی۔
ترجمان ریلوے کراچی کے مطابق وزیر ریلوے حنیف عباسی اور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ پاکستان ریلویز کراچی جمشید عالم کی خصوصی ہدایات پر ہفتے کو شہر میں ایک بڑے انسداد تجاوزات آپریشن کے دوران اولڈ کراچی سرکلر ریلوے الائنمنٹ، دیہ دوزان، ڈاؤ اسپتال (اوجھا کیمپس) کے قریب نجی اپارٹمنٹس کے عقب میں واقع 2.72 ایکڑ قیمتی ریلوے اراضی واگزار کرا لی گئی، جس کی مالیت ایک ارب 42 کروڑ روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ کارروائی ایس پی ریلویز کراچی محمد امین عالم نگرانی میں مکمل کی گئی، آپریشن میں ڈویژنل ایگزیکٹو انجینئر ملک مزمل حسین، ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ عظمیٰ، اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر ون ممتاز علی پھل، ڈی ایس پی ریلوے پولیس سید ذوالفقار علی شاہ، ایس ایچ او اسد خان سواتی، ایس ایچ او کینٹ اصغر علی بروہی، ایس ایچ او اسد انر اور ریلوے کے متعلقہ افسران و عملے نے بھرپور حصہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلویز کے ریکارڈ کے مطابق مذکورہ اراضی کراچی سرکلر ریلوے کے مختص کوریڈور کا حصہ ہے جو قانونی طور پر پاکستان ریلویز کی ملکیت ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق اس زمین پر نجی منصوبے کی سرگرمیاں جاری تھیں اور ریلوے اراضی پرغیرقانونی قبضہ قائم کیا گیا تھا تاہم عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں 25 مئی 2026 کو اسٹیٹس کو آرڈر میں توسیع نہ ہونے کے بعد پاکستان ریلویز نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ریلوے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے زمین کا قبضہ واپس حاصل کر لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران 12 افراد کو حراست میں لیا گیا اور متعلقہ افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی گئی ہے۔
ترجمان ریلوے کے مطابق وزیر ریلوے حنیف عباسی کی ہدایات کے تحت ملک بھر میں ریلوے اراضی قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کی مہم جاری ہے اور قومی اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ کراچی ڈویژن کی اس کامیاب کارروائی کو ریلوے اراضی کے تحفظ اور قبضہ مافیا کے خلاف جاری مہم کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کے اربوں روپے مالیت کے اثاثے محفوظ بنائے گئے ہیں۔