فیریئر ہال پر قبضے کی کوشش پر فلم تیار، ٹریلر جاری کردیا گیا
شہر قائد میں قائم تاریخی ورثے فیریئر ہال کی لائبریری پر قبضے کی کوشش سے متعلق بنائی جانے والی فلم کا ٹریلر جاری کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹرخالد حسن خان کی فلم ’ویلکور‘کا آفیشل ٹریلرجاری کردیاگیا، جس میں ایک فکری تحریک، ادبی ورثےکے تحفظ کے فکر و مکالمے کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتب، محفوظ دستاویزات اور تاریخی نوعیت کے کاغذات کی لازوال حیثیت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے فلم ڈائریکٹرخالد حسن خان کی مووی ویلکورکا آفیشل ٹریلرجاری کردیا گیا۔
کراچی کی تاریخی اورنو آبادیاتی طرزِ تعمیرکے حامل تاریخی ورثے فریئرہال لائبریری، جہاں تقریباً 70 ہزار محفوظ کتابوں، دلکش پس منظر میں فلم ویلکور ایک سنسنی خیز ادبی ڈرامے کے طورپر ابھر کرسامنے آئی ہے۔
فلم کی کہانی ایک فرضی تاریخی لائبریری کو درپیش خطرے کے گرد گھومتی ہے، جس میں ایسے پراسرار واقعے کو بیان کیا گیا کہ ایک بارسوخ زمیندارکے بیٹے کی جانب سے جعلی وصیت کےذریعے لائبریری پرقبضے کی کوشش کی جاتی ہے۔
یہ ادارہ اس دوراندیش زمیندار نے اپنی اہلیہ نورالنساء کی یاد میں قائم کیا تھا تاکہ خواتین اور بچوں کی تعلیم، فکری نشوونما اور خوابوں کی تعبیرکے لیے علم کا ایک محفوظ مرکزقائم ہو۔
اس فلم میں ہادی کو سچائی کا محافظ دکھایا گیا ہے جن کی رہنمائی میں ایک کمسن لڑکا لائبریری کےنیچے دفن خزانےکا رازدریافت کرتا ہے اور کتابوں، اخبارات، ہاتھ سےلکھے قدیم خطوط اور مطبوعہ ریکارڈ کی لازوال اہمیت کوسمجھتا ہے۔
فلم میں ایک ماورائی اورعلامتی کردار ورقہ بھی شامل ہے، جو کاغذ کی روح کی نمائندگی کرتا ہے، اس کردارکو شمیم شیرازی نے رومن طرز کےلباس میں ادا کیا ہے، جو بیدارہوکرخطرے میں گھری لائبریری کو بچانے اور انسانیت کوباورکروا رہے ہیں۔
ویلکور فلم میں عالمی آزادیٔ صحافت کی اہمیت پر بھی زوردیا گیا ہے جبکہ تیزرفتار ڈیجیٹل دورمیں یہ فلم اس حقیقت کواجاگر کرتی ہے کہ مطبوعہ صحافت احتساب، تاریخی شعوراوراجتماعی حافظے کی محافظ ہے۔
فلم میں اس بات کو باور کروایا گیا ہے کہ جب محفوظ ریکارڈ اور آرکائیوزباقی رہتے ہیں، توتہذیبوں کی سچائی بھی زندہ رہتی ہے۔
اپنی دلکش کہانی سے آگے بڑھ کر ویلکور ایک ثقافتی دعوتِ فکر ہے، جس دانشوروں، اساتذہ، اداروں اورعام ناظرین کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ لائبریریاں تہذیبوں کے زندہ آرکائیوز ہیں اور مطالعے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ فلم محض ایک تفریح نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے، جو آرکائیوز کے تحفظ، ادبی ورثے کی نگہداشت اورعلم کےمراکز کےتحفظ کےلیے مکالمےکوفروغ دیتی ہے۔
اس فلم کے مصنف، ڈائریکٹر اور پروڈیوسر خالد حسن خان ہیں جبکہ شریک پروڈیوسر سید اویس علی ہیں۔ فلم کی نمایاں کاسٹ میں ایان حسین، طلال فرحت، می می حسین، شمیم شیرازی اور ڈاکٹرسید سیف الرحمٰن شامل ہیں۔