تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی سپر پاور
غرب ایشیائی خطہ اوراس کی سرزمین ہمیشہ سے استعماری و سامراجی طاقتوں کے لیے ایک ایسی دلدل ثابت ہوئی ہے جس میں جو بھی اترا، وہ دوبارہ سنبھل نہ سکا۔ آج بھی جو کچھ رونما ہو رہاہے یقینا یہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، لیکن اس بار منظرنامہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔
ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے بعد، واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوںاور پینٹاگون کے عسکری حلقوں میں زلزلہ آ چکا ہے۔اس زلزلے کو سوشل میڈیا صارفین نے ایران کا زلزلہ قرار دیاہے۔
ایران پر امریکا نے جنگ مسلط کر دی لیکن تمام تر حساب کتاب اس وقت ناکام ہوا، جب ایران نے پلٹ کر نہ صرف جوابی وار کیا بلکہ امریکا کو ایک ایسی پوزیشن پر جانے پر مجبور کیا کہ جہاں وہ روزانہ کسی نہ کسی تیسرے ملک کا کاندھا استعمال کرکے اپنی رہی سہی عزت کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ملٹری کمانڈ اس وقت شدید اندرونی بحران کا شکار ہیں، جہاں ایران جنگ کے طریقہ کار اور ناکام حکمت عملی پر اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ اعلیٰ ترین حکومتی اور عسکری عہدیداران تاش کے پتوں کی طرح اپنے عہدوں سے دستبردار ہو رہے ہیں۔
یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے بارے میں امریکا نے ایران کے لیے حساب لگایا تھا کہ ایران پر جنگ مسلط کرنے سے ایران کی سیاسی و عسکری قیادت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی اور باقی ماندہ کام امریکی ایجنٹوں کے ذریعے انجام دیا جائے گا لیکن اس وقت حقیقت یہ ہے کہ امریکا کے اندر سیاسی و ملٹری قیادت میں اختلافات بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور بحران شدت اختیار کر رہاہے۔
اس سلسلے کی تازہ ترین اور سب سے ہولناک کڑی امریکا کی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر (DNI) تلسی گیبرڈ (Tulsi Gabbard) کا حالیہ استعفیٰ ہے، جس نے وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ امریکی جاسوسی اور انٹیلی جنس کے تمام 18 اداروں کی سربراہی کرنے والی بااثر خاتون، تلسی گیبرڈ نے حالیہ دنوں اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اگرچہ انھوں نے اپنے خط میں استعفے کی ظاہری وجہ اپنے شوہر کی کینسر کی بیماری کو قرار دیا، لیکن بین الاقوامی میڈیا اور معتبر ذرائع ابلاغ (جیسے رائٹرز اور واشنگٹن پوسٹ) کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ان پر استعفے کے لیے شدید دباؤ ڈالا ہوا تھا۔
تلسی گیبرڈ طویل عرصے سے بیرونِ ملک امریکی فوجی مداخلتوں اور جنگوں کی سخت مخالف رہی ہیں۔ کانگریس کی سماعت کے دوران انھوں نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کی کھلے عام نفی کر دی تھی کہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ تھا۔ انھوں نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ امریکی حملوں کے بعد ایران کی طرف سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کے جنگی جواز کا پول کھول کر رکھ دیا۔
ان کے اسی اختلافی موقف کی وجہ سے انھیں اہم جنگی فیصلوں کی میٹنگز سے باہر رکھا گیا، جس کا انجام بالاآخر ان کے استعفے پر ہوا۔صرف تلسی گیبرڈ ہی نہیں، بلکہ ایران جنگ کے خلاف امریکی اسٹیبلشمنٹ کے اندر ایک باقاعدہ خاموش بغاوت چل رہی ہے۔
اب تک 30 سے زائد سینیئر عسکری کمانڈ آفیسرز اور انٹیلی جنس حکام اس جنگ کی مخالفت میں یا تو مستعفیٰ ہو چکے ہیں یا انھیں جبری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔
چند نمایاں نام ذیل میں بیان کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر (NCTC) کے سربراہ جو کینٹ (Joe Kent)، جنھوں نے مارچ 2026 میں ایران جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا اور کہا کہ وہ اپنے ضمیر پر اس جنگ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے کیونکہ ایران امریکا کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔
تلسی گیبرڈ کی نائب اور اہم انٹیلی جنس عہدیداراماریلس فاکس کینیڈی (Amaryllis Fox Kennedy)، جنھوں نے مئی 2026 میں ایران سے متعلق امریکا کی پالیسی اختلافات کے سبب استعفیٰ دیا۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی سیکریٹری کرسٹی نوئم (Kristi Noem)، جنھیں جنگی دباؤ اور داخلی انتظام میں ناکامی پر عہدے سے ہٹا دیا گیاتھا۔
لیبر سیکریٹری لوری شاویز ڈی ریمر (Lori Chavez-DeRemer) جو اس بحرانی دور میں کابینہ کا ساتھ چھوڑ گئیں۔عسکری کمانڈرز کا ماننا ہے کہ پینٹاگون نے بغیر کسی ٹھوس انٹیلی جنس رپورٹ اور دور رس نتائج کا سوچے بغیر ایران کے خلاف محاذ کھول کر امریکی فوج کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
ایران جنگ نے دنیا کے سامنے امریکی عسکری اور سیاسی نظام کی وہ کمزوریاں عیاں کر دی ہیں جو اب تک سپر پاور کے ہالے میں چھپی ہوئی تھیں۔امریکی ذرائع ابلاغ پر امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی (CIA اور ODNI) اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اعتماد کا فقدان عروج پر ہے جیسی خبریں بھی مسلسل نشر ہو رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ حقائق کے بجائے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے جنگی فیصلے کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے باضمیر عسکری اور انٹیلی جنس ماہرین ان کا ساتھ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ امریکی حملوں کے جواب میں تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی موثر ناکہ بندی نے عالمی معیشت اور امریکی سپلائی لائن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکا اس اہم بحری راستے کو بحال رکھنے میں مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔جس کی وجہ سے امریکا کو داخلی معاشی اور سیاسی دونوں بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔امریکی عوام اس جنگ سے شدید تنگ آ چکے ہیں۔
صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی ریٹنگ تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور چند ہی مہینوں میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن میں حکمران جماعت کو بدترین شکست کا سامنا ہے۔ امریکی معیشت جنگ کے بے پناہ اخراجات کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر اس وقت اتنے الگ تھلگ ہو چکے ہیں کہ خلیجی ممالک اور یورپی اتحادیوں نے انھیں ایران پر دوبارہ حملے کرنے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا کہ وہ دوبارہ حملے کا فیصلہ کرنے والے تھے لیکن خلیجی اتحادیوں کے کہنے پر انھیں رکنا پڑا۔
ٹرمپ کا یہ بیان بتاتا ہے کہ وہ اس وقت اپنے اتحادیوں کے معاملے میں دباؤ میں ہیں اور اتحادی ایران پر امریکی حملوں میں ان کا ساتھ نہیںدینا چاہتے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکا کی اعلیٰ ترین صفوں سے ہونے والے یہ مسلسل استعفے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واشنگٹن اب اندرونی طور پر کھوکھلا ہو رہا ہے۔
جب ملک کے انٹیلی جنس چیفس اور کاؤنٹر ٹیررازم کے سربراہان ہی اپنی حکومت کی جنگی پالیسی پر اعتماد کھو بیٹھیں، تو یہ جنگ میدانِ جنگ میں جیتنے سے پہلے ہی ہالینڈ کے گلیاروں میں ہاری جا چکی ہوتی ہے۔
ایران جنگ نے امریکا کو ایک ایسی بند گلی میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ صرف اس کی عالمی بالادستی کے خاتمے کی صورت میں ہی ممکن نظر آتا ہے۔اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ جنگ میں ایک طرف امریکا کی عالمی بالادستی کا خاتمہ کیا ہے تو دوسری طرف خطے میں گریٹر اسرائیل کے منصوبہ کو ناکام بنا دیاہے۔