کچھ ترامیم اور سیاسی اندازے

یہ تسلیم کرنا ہوگا ہماری سیاسی جماعتوں نے خود بھی اپنی سیاست اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے

پاکستان کے موجودہ سیاسی نظام یا جو مروجہ طریقہ کار قانون سازی کا ہے، اس میں ایک طرف ’’نظریہ ضرورت‘‘ کا قانون یا طریقہ کار موجود ہے تو ددسری طرف اس پر جو سیاسی اتفاق دیکھنے کو ملتا ہے، اس کے پیچھے اتفاق کم اور ڈکٹیشن کا پہلو زیادہ نمایاں ہوتا ہے ۔

پارلیمنٹ جیسا ادارہ جو بنیادی طور پر قانون سازی کرتا ہے، اس کی اہمیت اسی لیے کم ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت سمیت کئی وزرا کو بھی عملا مسودہ قانون میں کیا کچھ درج ہے، اس کا علم نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس مسودے کا مطالعہ نہیں کرتے حالانکہ اس کی کاپیاں اور اس کی منظوری پر اعتماد میں لینے کی روایت کمزور ہوتی ہے۔

26اور 27ویں ترمیم کی منظوری میں بھی ہمیں سیاسی،قانونی اور آئینی پہلووں پر ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے مدلل گفتگو سننے کو نہیں ملی ، خصوصا اپوزیشن ارکان بھی سوائے مخالف برائے مخالفت کے مسودہ قانون میں شامل مختلف کمزوریوں کے پہلو دیکھنے میں ناکام رہے اور کسی بھی سطح پر بحث ومباحثہ کو نظرانداز کرکے اس کو بس منظور کرانے کی عملی پالیسی نے ہماری پارلیمانی سیاست اور جمہوریت سمیت ارکان پارلیمنٹ کے بارے میں کوئی اچھی مثالیں قائم نہیں کی ہیں ۔

سب سے دلچسپ لطیفہ تو یہ بھی ہمیں دیکھنے کو ملا کہ قانون کی منظوری سے قبل حزب اقتدار کے بہت سے اہم اور بڑے ناموں نے بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ ہم نے ابھی تک اس اہم مسودہ کا نہ تو ڈرافٹ دیکھا اور نہ پڑھا ہے۔

ایک بار پھر قومی سیاست میں ممکنہ 28ویں ترمیم کے تناظر میں میڈیا کی سطح پر کافی بحث نظر آتی ہے ۔بہت سے ایسے صحافیوں یا سیاسی پنڈتوں کے بقول 28ویں ترمیم کی منظوری کا اسٹیج سجادیا گیا ہے ۔

ان کے بقول 26اور 27ویں ترمیم کی منظوری کی طرح 28ویں ترمیم بھی عملی طور پر منظور ہوجائے گی اور اپوزیشن بھی اس معاملے میں روایتی کردار ادا کرے گی ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت عملی طور پر 28ویں ترمیم کا حتمی مسودہ یا بحث ومباحثہ کے لیے بھی پیش کردہ دستاویز موجود نہیں ہے۔ بس ٹی وی اینکرز، یوٹیبرز، چند کالم نگار کسی چائے خانے میں بیٹھ کر یا ٹی وی اسکرینز پر اس بارے میں لمبی چوڑی باتیں کررہے ہیں۔

اسلام آباد کے کئی جٖغادری تو اس ترمیم کے بارے میں نہ صرف گفتگو کررہے ہیں بلکہ ان کی گفتگو میں بہت سے نکات بھی بحث کا حصہ ہیں کہ مجوزہ 28ویں ترمیم میں کیا کیا ہوسکتا ہے۔

ان ترامیم میں نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں تبدیلی جس کے تحت وفاق کا مالیاتی امور پرصوبہ کے مقابلے میں زیادہ حصہ پر اتفاق،18ویںترمیم کے بعض اختیارات کو صوبوں سے وفاق میں منتقل کرنا جس میں تعلیم ،صحت اورآبادی کے محکمے شامل کرکے وفاق کے کردار کو بڑھانا اور قومی نصاب کی یکسانیت پیدا کرنا،مقامی حکومتوں کے نظام کو قانونی یا آئینی تحفظ کو یقینی بنانا اور صوبوں کو پابند کرنا کہ وہ ضلعی سطح پر سیاسی ،انتظامی اور مالی اختیارات کو ممکن بنائیں ،نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کو عملا ممکن بنانا ، نئے صوبوں کی منظور ی کے لیے صوبائی اسمبلی کی شرط کا خاتمہ ،ووٹرز کی عمر 18برس سے 22یا25برس کرنے کی تجویز،پانی کی تقسیم ،گورنرز رول کی منظوری اور قومی سلامتی اور معاشی چیلنجز کی بنیاد پر وفاق اور دفاع کو مضبوط کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔

حالانکہ عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس کوئی مسودہ ہے ۔اب دیکھنا ہوگا کہ جب بھی 28ویں ترمیم کا مسودہ بحث یا منظوری کے لیے سامنے آتا ہے تو اس کے حتمی خدوخال کیا ہوںگے اور حکمران جماعت یا ان کی اتحادی سیاسی جماعتوں کا ردعمل کیا ہوگا۔

یہ بھی امکان ہے کہ جو نکات اس وقت زیر بحث ہیں ان میں سے بیشتر نکات اتفاق رائے کے عمل میں کم کردیے جائیں اور کوئی ایسا فارمولہ سامنے آجائے جو حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں میں قبول ہوجائے ۔بالخصوص قومی مالیاتی ایوارڈ پر متفقہ فارمولہ اور تعلیم ،صحت ،آبادی کو صوبوں سے وفاق میں منتقل کرنا ہوسکتا ہے ۔نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا عمل آسان نہیں اور نہ ہی صوبوں سے اس کی منظوری کو ختم کرنا بھی آسان کام نہیں ہے ۔

میرے جیسے کچھ تجزیہ کار مزید آگے بڑھ کر یہ بھی فرما رہے کہ پیپلزپارٹی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ووٹرز کی عمر18سے 22 یا 25برس کرنا بھی بلاوجہ حکمران اور طاقت کے طبقات کے خلاف خود ایک بڑے سخت ردعمل کی سیاست کو پیدا کرے گا اور اس فیصلہ کو ایک خوف کے فیصلے کی بنیاد پر دیکھا جائے گا۔ اب اس قسم کے تجزییے کو کیا کہا جائے ۔ یعنی خود ہی سوال کیا ہے اور خود ہی جواب دیا ہے ۔

اگرچہ حکومت تسلسل کے ساتھ اس نقطہ پر زور دے رہی ہے کہ 28ویں ترمیم پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر اتحادی جماعتوں کی عملی مشاورت سے ہوگی۔ کچھ لوگوں نے حال ہی میں وزیر اعظم اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کو بھی اسی تناظرمیں دیکھنا شروع کیا ہے ۔پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد ان کی صوبائی خود مختاری نہ صرف مضبوط ہوئی ہے بلکہ دیگر صوبوں کا بھی اس میں فائدہ ہوا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی سطح پر کوئی بڑی بحث ہم 28ویں ترمیم کی سطح پر بطور جماعت ان میں نہیں دیکھ رہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے پاس سیاسی آپشن محدود ہیں ۔

دوسری طرف یہ قیاس آرائی بھی عام ہے کہ پی ٹی آئی کو پس پردہ اعتماد میں لیا جارہا ہے تاکہ ایک بڑے اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھا جاسکے ۔ پیپلز پارٹی جانتی ہے کہ ان ترامیم کی منظوری کسی بھی طور پر ان کی پارٹی کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں مگر اگر پیپلز پارٹی مزاحمت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو پھر ان کے دیگر آپشنز پر کام ہوگا جو ان کے لیے نئی مشکلات بھی پیدا کرسکتا ہے۔

مگر ایسے لگتا ہے کسی نہ کسی سطح پر پیپلز پارٹی کو سیاسی طور پر رام کرلیا جائے گا اور اس میں کلیدی کردار صدر آصف علی زرداری کا ہوگا ۔ پیپلز پارٹی کی سیاست اب مزاحمت کی سیاست سے کافی دور ہوگئی ہے اور ان کو طاقت کے کھیل میں حصہ لینے کا ہنر زیادہ بہتر طور پر سمجھ آگیا ہے ۔

ویسے اگر پیپلز پارٹی نے واقعی مزاحمت دکھانی ہے تو وہ بس اس عمل کی منظوری کو زیادہ سے زیادہ تاخیر کا شکار کرسکتی ہے ۔کیونکہ پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اس ترمیم کی منظوری کو بجٹ کی منظوری کے بعد تک محدود کردیا جائے اور وہ بجٹ کی حمایت کو اس ترمیم پر اپنے تحفظات کے خاتمہ تک محدود کردے ۔

لیکن جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اس پر کوئی بڑی عوامی سطح کی سیاسی اور پارلیمانی مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی ،ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔کیونکہ پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن سمیت باقی سیاسی سطح پر ہم دیکھیں تو ہماری سیاسی جماعتوں کا اپنا داخلی اور مجموعی طور پر سیاسی اور جمہوری مقدمہ کمزور ہوا ہے ۔

یہ تسلیم کرنا ہوگاہماری سیاسی جماعتوں نے خود بھی اپنی سیاست اور جمہوریت کو کمزور کیا ہے اور اس کی ایک بھاری قیمت جمہوری نظام کے سمجھوتے کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہے اور جب سیاسی جماعتیں خود کو محض اقتدار کی سیاست میں ذاتی سیاست تک محدود کرلیں تو پھر قومی سیاست کا یہ ہی حال ہوتا ہے تو جو ان کی کمزور مزاحمت کے طور دیکھنے کو مل رہا ہے ۔

Load Next Story