’’کاکروچ جنتا‘‘ اور ان کی پارٹی
ہندوستان میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک عجیب نام نے اچانک سیاسی اور سماجی ماحول میں تہلکہ برپا کر دیا۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے قیام کا اعلان سوشل میڈیا پر اصلاً ایک طنز تھی جو تیزی سے وائرل ہوگئی، دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں فالوورز نے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔
سوشل میڈیا پر یہ ٹرینڈ شروع کرنے والا خود حیران تھا کہ ایسا کیا ہوگیا کہ پل کی پل میں جنگل ہرا ہوگیا تاہم اب یہ حقیقت واضح ہو رہی ہے کہ اس گہرے طنز کی حیران کن پذیرائی کے پیچھے چھپی نوجوانوں کی سماجی بے چینی، اضطراب اور سیاسی نظام سے بڑھتی ہوئی بددلی کا اظہار کارفرما ہے۔
کہانی اس وقت شروع ہوئی جب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے ایک ریمارکس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا۔ انھوں نے بے روزگار اور مسلسل احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو ’’کاکروچ‘‘ سے تشبیہ دی۔
بعد میں وضاحتیں آئیں، سیاق و سباق بدلنے کی کوشش ہوئی مگر ہندوستانی Gen Z نے اس توہین کو احتجاجی شناخت میں بدل دیا۔ چند نوجوانوں نے طنزاً ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ بنا ڈالی۔ انسٹاگرام اکاؤنٹس، AI تصاویر، وائرل ویڈیوز، اور مضحکہ خیز منشور چند دنوں میں لاکھوں نوجوانوں کی توجہ حاصل کرنے لگے۔
یہ سب بظاہر ایک وائرل ابال معلوم ہوتا ہے مگر حقیقت میں یہ ہندوستانی نوجوان کے اندر جمع ہونے والی اس بے چینی کا اظہار ہے جسے روایتی سیاست سننے پر آمادہ نہیں۔
مودی دور کے ہندوستان میں انفراسٹرکچر، ڈیجیٹلائزیشن، شاہراہوں، میٹروز اور عالمی تشہیر کے بڑے بیانیے ضرور بنے مگر دوسری طرف نوجوانوں میں بے روزگاری، امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے، مہنگی تعلیم، غیریقینی روزگار اور معاشی دباؤ نے شدید اضطراب پیدا کیا ہے۔
ہندوستانی معیشت نے بظاہر تیزی سے ترقی کی ہے مگر اس ترقی کے ثمرات یکساں طور پر تقسیم نہیں ہوئے بلکہ ترقی کے بیشتر ثمرات ایک خاص کارپوریٹ طبقے نے ہی سمیٹے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’کاکروچ‘‘ جیسا توہین آمیز لفظ اچانک احتجاج کی ایک سیاسی علامت بن گیا۔
عالمی سیاسی منظرنامہ ذہن میں رکھیں تو یہ احتجاج اور مزاحمت محض بھارت سے مخصوص نہیں۔ دراصل پوری دنیا میں Gen Z اور دیگر نوجوان روایتی سیاست سے بدظن اور مایوس ہیں۔ سری لنکا میں نوجوانوں کی تحریک نے راجا پاکسے کی حکومت گرا دی۔
بنگلہ دیش میں طلبہ تحریک نے برسوں سے قائم حسینہ واجد کا آہنی سنگھاسن الٹا کر رکھ دیا۔ کینیا میں نوجوانوں نے سوشل میڈیا مہم کے ذریعے حکومت کو مالیاتی بل واپس لینے پر مجبور کیا۔ تھائی لینڈ میں Gen Z نے بادشاہت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو براہِ راست چیلنج کیا۔ امریکا اور یورپ میں بھی نوجوان نسل روایتی سیاسی جماعتوں، میڈیا بیانیوں اور سیاسی اداروں سے مایوس دکھائی دیتی ہے۔
نئی نسل کی سیاست کا انداز اور زبان بھی بدل چکی ہے۔ پچھلی نسلیں جلسے، پمفلٹ، یونین اور نظریاتی کتابوں سے سیاست کرتی تھیں۔ موجودہ جین زی میمز، ہیشٹیگ، ریلز، اے آئی کی مدد سے ویڈیوز اور گرافکس اور وائرل کانٹینٹ کے ذریعے احتجاج کرتی ہے۔ ان کے لیے طنز صرف تفریح نہیں بلکہ مزاحمت کی ایک زبان ہے۔ ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ اسی نئی سیاسی زبان کا بھارتی اظہار ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا یہ سب وقتی سوشل میڈیا ہنگامہ ہے یا واقعی یہ وائرل ٹرینڈ کوئی پائیدار سیاسی قوت بن سکتا ہے؟ یہ سوال صرف بھارت ہی نہیں بلکہ موجودہ جمہوریتوں کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا میں رائج قسم ہا قسم کے سیاسی نظاموں میں نئی سیاسی جماعت بنانا بے حد مشکل، مہنگا اور تقریباً ناممکن عمل ہو چکا ہے۔
امریکا مکمل طور پر دوجماعتی نظام کی آہنی گرفت میں ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں اقتدار دو یا تین بڑی جماعتوں کے گرد گھومتا ہے۔ بھارت جیسے بڑے ملک میں بھی اصل طاقت محدود سیاسی دھڑوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ جدید دور کی پولیٹکل اکانومی کی گہرائی، گیرائی اور مفادات کا پیچیدہ سلسلہ ہے۔ سیاسی جماعتیں اب صرف سیاسی تنظیمیں نہیں رہیں، وہ سرمائے، میڈیا، کارپوریٹ مفادات اور طاقتور ڈونرز (جو اکثر نامعلوم یا پردے کے پیچھے رہتے ہیں) کے پیچیدہ نیٹ ورک کا حصہ بن چکی ہیں۔
انتخابات اتنے مہنگے ہو چکے ہیں کہ بغیر بڑے سرمائے، کارپوریٹ فنڈنگ یا طاقتور پشت پناہی کے قومی سطح پر سیاست کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یوں روایتی جماعتیں اپنے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیتی ہیں جس کے اندر نئی قوتوں کے داخل ہونے کی گنجائش کم سے کم رہ جاتی ہے اور اندر پشت پناہی یا سرپرستی کرنے والوں کا راج۔ اسی لیے سوشل میڈیا پر لاکھوں فالوورز ہونا اور زمینی سیاست میں کامیاب ہونا دو الگ چیزیں ہیں۔
’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا ابھار اگر برقرار رہا تو اسے بھی اسی سفاک حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ نوجوانوں کے غصے، طنز اور مایوسی کی نمائندگی ضرور کرتی ہے مگر بھارتی سیاست ذات، مذہب، مقامی دھڑے بندی، سرمائے اور مضبوط تنظیمی نیٹ ورک پر چلتی ہے۔
میمز کا شہرہ اپنی جگہ مگر یہ ڈیجیٹل ہنگامہ انتخابی حلقوں کی سیاست، الیکشن کیمپین فنڈنگ، انتخابی مہم اور پولنگ دن کے داؤ پیچ کا متبادل نہیں بن سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برسوں میں کئی نوجوان تحریکیں شدید شور شرابے کے باوجود پائیدار سیاسی جماعتوں میں تبدیل نہ ہو سکیں۔ Occupy Wall Street سے لے کر عرب بہار تک، کئی تحریکوں نے سیاسی فضا بدل دی مگر مستقل سیاسی متبادل پیدا نہ کر سکیں۔
اس کے باوجود ان تحریکوں کو غیراہم سمجھنا بھی غلط ہوگا کیونکہ ان تحریکوں نے یہ گہری نفسیاتی حقیقت بے نقاب کی ہے کہ نوجوان نسل سیاست سے لاتعلق نہیں تاہم موجودہ روایتی سیاسی نظام انھیں اپنے اندر جگہ دینے پر آمادہ نہیں۔
دنیا بھر میں نوجوان یہ محسوس کر رہے ہیں کہ سیاسی اور معاشی نظام آزاد نہیں بلکہ یہ بند کمروں میں ہونے والے فیصلوں کا غلام ہے جہاں کارپوریٹ اشرافیہ، طاقتور طبقات اور روایتی سیاسی طبقات قابض ہیں۔
پاکستان کے لیے اس سارے منظرنامے میں ایک اہم سبق ہے۔ پاکستانی نوجوان بھی تقریباً انھی مسائل کا شکار ہیں: بے روزگاری، مہنگی تعلیم، سیاسی تقسیم بلکہ منظم منافرت، کمزور ادارے اور روایتی سیاسی اشرافیہ سے بڑھتی ہوئی مایوسی۔ پاکستان اور بھارت دونوں میں یہ ایک مشترک سوال ہے: کیا نئی نسل روایتی سیاست کو بدل سکے گی یا بالآخر اسی نظام میں جذب ہو جائے گی؟
شاید یہی ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کا مبہم معنی اور استعارہ بھی ہے۔ ممکن ہے چند ماہ بعد ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ محض انٹرنیٹ آرکائیو کا حصہ بن جائے مگر یہ بھی ممکن ہے کہ تاریخ اسے اس لمحے کے طور پر یاد رکھے جب ہندوستانی نوجوان نے پہلی بار اپنے سیاسی غصے کو میم کی زبان میں ڈھال کر پورے نظام پر فردِ جرم عائد کی تھی… شاید جدید جمہوریتوں کا سب سے بڑا بحران یہی ہے کہ نوجوان سیاست سے فرار نہیں چاہتے مگر روایتی سیاست انھیں اپنے اندر جگہ دینے کے لیے تیار نہیں۔