مشینی وجود میں بدلتا انسان
مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ ہم واقعی انسان رہ گئے ہیں یا آہستہ آہستہ مشین بنتے جا رہے ہیں؟ یہ سوال محض ایک فلسفیانہ بحث محسوس نہیں ہوتا بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کو دیکھ کر خود بخود ذہن میں ابھرتا ہے۔
آج انسان کی زندگی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز، مصروف اور پیچیدہ ہو چکی ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے ہاتھ موبائل فون کی طرف بڑھتا ہے اور رات کو سونے سے پہلے بھی آخری نظر اسی اسکرین پر ہوتی ہے۔ گویا ہماری زندگی کا آغاز اور اختتام ایک مشین کے ساتھ ہونے لگا ہے۔ یہی عادت اس بات کی علامت ہے کہ ہماری ترجیحات اور طرزِ زندگی بدل چکے ہیں۔
پہلے زمانے میں لوگ سہولتوں سے محروم ضرور تھے، مگر ان کی زندگی میں ایک سکون اور اطمینان پایا جاتا تھا۔ لوگ ایک دوسرے سے مل بیٹھتے، لمبی گفتگو کرتے اور چھوٹی چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کر لیتے تھے۔ آج کے دور میں ہر چیز چند سیکنڈ میں دستیاب ہے، مگر اس کے باوجود انسان ذہنی دباؤ، بے چینی اور تنہائی کا شکار نظر آتا ہے۔ ہم نے وقت بچانے کے لیے مشینیں بنائیں، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ وقت پھر بھی ہمارے پاس نہیں بچتا۔ ایسا لگتا ہے جیسے مشینوں نے ہماری خدمت کرنے کے بجائے ہمیں ہی اپنا تابع بنا لیا ہو۔
اگر روزمرہ زندگی کا جائزہ لیا جائے تو ایک خاص قسم کی یکسانیت دکھائی دیتی ہے۔ صبح اٹھنا، جلدی جلدی تیار ہونا، اسکول، کالج یا دفتر جانا، واپس آکر تھکن کے ساتھ موبائل یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جانا، اور پھر اگلے دن یہی عمل دہرانا۔ زندگی ایک ایسے پروگرام کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے جو بار بار ایک ہی انداز میں چل رہا ہو۔ انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا واقعی زندگی صرف یہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم بھی ایک مشین کی طرح پہلے سے طے شدہ ہدایات کے مطابق چل رہے ہیں؟
ٹیکنالوجی نے بلاشبہ ہماری زندگی کو آسان بنایا ہے۔ اب ہمیں راستے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ موبائل میں نقشے موجود ہیں۔ حساب کتاب کے لیے ذہن استعمال کرنے کے بجائے کیلکولیٹر موجود ہے۔ معلومات یاد رکھنے کے بجائے ہم فوراً انٹرنیٹ کھول لیتے ہیں۔ یہ سہولتیں وقتی طور پر فائدہ مند ضرور ہیں، مگر آہستہ آہستہ ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کا استعمال کم کرتے جا رہے ہیں۔ انسان جب کسی صلاحیت کو استعمال کرنا چھوڑ دیتا ہے تو وہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی باتیں یاد رکھنے میں بھی مشکل محسوس کرتے ہیں۔
انسانی تعلقات بھی اس تبدیلی سے متاثر ہوئے ہیں۔ پہلے خاندان کے افراد ایک ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے، ہنستے، دکھ سکھ بانٹتے اور ایک دوسرے کے جذبات کو سمجھتے تھے۔ آج اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی کمرے میں موجود لوگ بھی ایک دوسرے سے گفتگو کرنے کے بجائے اپنے اپنے موبائل فون میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ خاموشی صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ دلوں تک پہنچ چکی ہے۔ انسان جذبات محسوس تو کرتا ہے مگر انہیں صحیح انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت کھوتا جا رہا ہے۔ رشتے موجود ہیں، مگر ان میں پہلے جیسی گرمی اور قربت کم ہوتی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ آج اکثر لوگ اپنی زندگی جینے کے بجائے اسے دوسروں کو دکھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ کسی خوبصورت لمحے کو محسوس کرنے کے بجائے فوراً اس کی تصویر لینے اور اسے پوسٹ کرنے کی فکر ہونے لگتی ہے۔ ہم اصل خوشی کو چھوڑ کر اس کے ظاہری اظہار میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ آہستہ آہستہ انسان حقیقی زندگی سے زیادہ ایک ’’ڈیجیٹل زندگی‘‘ جینے لگتا ہے، جو باہر سے خوبصورت دکھائی دیتی ہے مگر اندر سے اکثر خالی ہوتی ہے۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی کا دباؤ بھی انسان کو مشینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ہر جگہ مقابلے کی فضا ہے۔ ہر شخص دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ طلبہ اچھے نمبروں کے دباؤ میں ہیں، جبکہ ملازمت کرنے والے بہتر کارکردگی دکھانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ اس دوڑ میں انسان اپنی پسند، شوق اور جذبات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ کامیابی کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ اب کامیاب وہ سمجھا جاتا ہے جو ہر وقت مصروف ہو، چاہے اندر سے وہ کتنا ہی تھکا ہوا اور خالی کیوں نہ ہو۔
مشینی بنتے ہوئے انسان کی ایک بڑی علامت یہ بھی ہے کہ وہ جذبات کو کمزوری سمجھنے لگا ہے۔ لوگ اپنے احساسات چھپانے کو مضبوطی سمجھتے ہیں۔ رونا، اداس ہونا یا کسی کے لیے نرم جذبات رکھنا اب اکثر کمزوری تصور کیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہی جذبات انسان کو انسان بناتے ہیں۔ محبت، ہمدردی، رحم اور احساس وہ خوبیاں ہیں جو کسی مشین میں نہیں ہوتیں۔ جب انسان اپنے جذبات کو دبا دیتا ہے تو وہ اپنی انسانیت کا ایک اہم حصہ بھی کھو دیتا ہے۔
آج کی مصروف زندگی نے انسان سے سکون بھی چھین لیا ہے۔ ہر وقت جلدی، ہر وقت فکر اور ہر وقت کسی نہ کسی کام کا دباؤ۔ انسان کے پاس خود اپنے لیے وقت نہیں بچتا۔ وہ قدرتی مناظر سے دور ہو چکا ہے۔ پہلے لوگ کھلے میدانوں، درختوں اور فطرت کے قریب وقت گزارتے تھے، مگر اب زیادہ وقت بند کمروں اور اسکرینوں کے سامنے گزرتا ہے۔ اس وجہ سے ذہنی تھکن اور بے سکونی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید ایجادات نے انسان کی زندگی کو بے شمار آسانیاں بھی فراہم کی ہیں۔ تعلیم، طب، سفر اور رابطے کے میدان میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس کے بے جا استعمال میں ہے۔ اگر انسان توازن قائم رکھے تو وہ جدید سہولتوں سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اپنی انسانیت کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کچھ وقت اپنے لیے نکالیں۔ خاندان اور دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کریں، فطرت کے قریب جائیں، کتابیں پڑھیں، اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دوبارہ زندہ کریں۔ لکھنا، مصوری کرنا، کھیلنا یا کوئی نیا ہنر سیکھنا انسان کو دوبارہ اپنی اصل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان صرف کام کرنے والی مشین نہیں بلکہ احساسات، خیالات اور خواب رکھنے والی مخلوق ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کا مشینی بنتا ہوا وجود ایک اچانک پیدا ہونے والا مسئلہ نہیں بلکہ آہستہ آہستہ بڑھنے والی تبدیلی ہے۔ اگر ہم وقت پر اس حقیقت کو سمجھ لیں اور اپنی زندگی میں توازن پیدا کر لیں تو ہم اس سے بچ سکتے ہیں۔ ترقی کا اصل مقصد زندگی کو بہتر بنانا ہے، نہ کہ انسان کو اس قدر مصروف کر دینا کہ وہ جینا ہی بھول جائے۔ ہمیں مشینوں کا استعمال ضرور کرنا چاہیے، مگر خود مشین نہیں بننا چاہیے۔ یہی توازن ایک خوشحال، پرسکون اور مکمل زندگی کی ضمانت بن سکتا ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔