ایران بات چیت نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے، ویسے بھی مذاکرات بہت بورنگ ہوگئے ہیں؛ ٹرمپ
امریکا جنگ بندی معاہدے کیلیے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں نرم کرنے کو تیار
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے جنگ بندی مذاکرات کو معطل کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اس پر کوئی ’’ایشو‘‘ نہیں ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات معطل کرنے کے فیصلے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع نہیں دی ہے تاہم اگر وہ بات چیت روکنا چاہتا ہے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
این بی سی سے مختصر ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے مذاکرات معطل کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہم فوراً وہاں جا کر ہر طرف بمباری شروع کر دیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے اس کی کوئی خاص پروا نہیں۔ اگر مذاکرات ختم ہو گئے ہیں تو ہو گئے، اور اگر جاری ہیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ میرے خیال میں ایران نے مذاکرات پر بہت وقت لے لیا۔ اب یہ عمل بہت طویل ہو گیا تھا اور سچ یہ ہے کہ یہ مذاکرات اب خاصے اکتا دینے والے بن چکے تھے۔
یاد رہے کہ کچھ دیر قبل ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے جاری بالواسطہ مذاکرات معطل کر دیے ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جنگ بندی بھی ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے وسیع تر جنگ بندی فریم ورک کا حصہ تھی، لیکن اسرائیلی حملوں کے باعث اس کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔
تسنیم نیوز کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور لبنان سے اسرائیلی افواج واپس نہیں جاتیں، اس وقت تک امریکا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کے روز کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی تمام محاذوں پر لاگو ہوتی ہے جس میں لبنان بھی شامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھی جائے گی اور نتائج کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہوں گے۔
یہ سفارتی بحران اس وقت شروع ہوا جب اسرائیلی وزیراعظم نے اپنی افواج کو بیروت کے جنوبی علاقے داحیہ میں حملوں کا حکم دیا جو حزب اللہ کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان حملوں کے منصوبوں پر امریکا کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی تھی۔