ایران کیساتھ جنگ بندی مذاکرات تیزی سے جاری ہیں؛ ٹرمپ کا نیا دعویٰ

ایران نے اسرائیل کے حزب اللہ پر حملے پر مذاکرات معطل کرنے کی دھمکی دی تھی

ایران امریکا مذاکرات کا اگلا دور بقرعید کے بعد اسلام آباد میں متوقع ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے تو ایران کے مذاکرات معطل کرنے کے عندیہ پر ایسا ظاہر کیا تھا کہ انھیں اس کی پروا نہیں ہے تاہم اب وہ اپنے سابقہ بیان سے یوٹرن لینے پرمجبور ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی تازہ سوشل میڈیا پوسٹ نے گھمسان جنگ کے بیچ جنگ بندی کے دیئے جلا دیے ہیں اور یہ بیان نوید بن کر سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر مختصر بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیز رفتاری سے جاری ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اس مختصر لیکن نہایت بروقت بیان نے دنیا کو ایک نئے ہیجان اور اضطراب سے بچالیا ہے جو کہ خود امریکی صدر نے کچھ دیر قبل پیدا کردیا تھا۔

جب امریکی صدر نے ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے پر کہا تھا کہ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ویسے بھی اب مذاکراتی عمل بہت بورنگ ہوگیا ہے۔

تاہم اس سخت بیان کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے سوشل ٹروتھ پر بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے انھیں حزب اللہ پر حملے کرنے سے روک دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا تھا کہ حزب اللہ سے بات اعلیٰ سطح کے ذرائع سے بات ہوئی اور انھوں نے بھی اسرائیل پر حملے نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم اور حزب اللہ سے رابطوں کی پوسٹ کے بعد صدر نے یہ تازہ پوسٹ بھی کی جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے تیزی سے جاری رہنے کا اعلان کیا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی دھمکی پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے بات کرکے حزب اللہ پر حملے رکوائے جس پر ایران کے ساتھ مذاکرات بحال ہوگئے۔

 

Load Next Story