فیفا ورلڈکپ کی 96 سالہ تاریخ کا سب سے بڑا ایونٹ، نیا فارمیٹ کیسا ہوگا؟
رواں ماہ کی 11 تاریخ سے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں شروع ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کئی حوالوں سے منفرد اور تاریخی ہوگا۔
پہلی بار ٹورنامنٹ میں 32 کے بجائے 48 ٹیمیں حصہ لیں گی، جس سے مقابلے کا حجم ماضی کے تمام ورلڈ کپ ایڈیشنز سے کہیں بڑا ہو جائے گا۔
نئے فارمیٹ کے تحت 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ کی دو بہترین ٹیمیں براہِ راست اگلے مرحلے میں پہنچیں گی، جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیموں کو بھی ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی ملے گی۔
اس طرح پہلی مرتبہ راؤنڈ آف 32 کھیلا جائے گا جس کے بعد روایتی انداز میں ناک آؤٹ میچز، کوارٹر فائنل، سیمی فائنل اور فائنل کھیلا جائے گا۔
فیفا کے گلوبل فٹبال ڈیویلپمنٹ کے سربراہ اور آرسنل کے سابق مینیجر آرسین وینگر کا ماننا ہے کہ ٹیموں کی تعداد بڑھانا فٹبال کی ترقی کے لیے ایک قدرتی عمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس توسیع سے اردن، ازبکستان، کیوراساؤ اور کیپ وردے جیسے ممالک کو پہلی بار عالمی اسٹیج پر کھیلنے کا موقع ملا ہے۔
آرسین وینگر کا کہنا تھا کہ یہ ایک قدرتی ارتقا ہے، میرا خیال ہے کہ ہم فٹبال کو پوری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ اگر آپ 1930 سے اب تک کا سفر دیکھیں تو 2030 میں ورلڈ کپ کو 100 سال پورے ہو جائیں گے۔ ہم نے 13 ٹیموں سے شروع کیا، پھر 16 ہوئیں، 1982 میں پہلی بار 24 اور 1998 میں 32 ٹیمیں شامل کی گئیں۔ اب میرا ماننا ہے کہ 48 ٹیمیں بالکل درست تعداد ہے۔“
دوسری جانب ناقدین کا خیال ہے کہ کمزور اور مضبوط ٹیموں کے درمیان یکطرفہ مقابلے بڑھ سکتے ہیں، جس سے دلچسپی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
علاوہ ازیں فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی ٹیموں کو مختصر مدت میں آٹھ میچز کھیلنا ہوں گے، جس سے کھلاڑیوں کی تھکن اور انجری کے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
تاہم فیفا کا مؤقف ہے کہ اس توسیع سے فٹبال کی ترقی اور عالمی معیشت دونوں کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔