حکومت اور پیپلز پارٹی کا اہم مشاورتی اجلاس، بجٹ 10 جون کو پیش کرنے پر اتفاق

حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس بجٹ تجاویز، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ترجیحات پر بات کی گئی

فوٹو: وفاقی حکومت

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال 27-2026 کے لیے 17.1 ٹریلین روپے کے لگ بھگ مالیت کا وفاقی بجٹ 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے حکومت اور ان کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے درمیان اتفاق بھی ہوگیا ہے، بجٹ میں معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد تجویز ہے جبکہ اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت اور پی پی پی کے درمیان اہم مشاورتی اجلاس ہوا، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پیپلز پارٹی قیادت سے ملاقات کی ہے، جس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، نوید قمر، شیری رحمان اور سلیم مانڈوی والا شریک ہوئے، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور معاون خصوصی طارق باجوہ بھی اجلاس میں شریک تھے، جس میں سندھ کے ترقیاتی اور آبی منصوبوں سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے۔

وفاقی سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے بجٹ امور پر بریفنگ دی، اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی ترجیحات پر تفصیلی مشاورت کی گئی اور موجودہ اخراجات اور ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا، مالیاتی استحکام، عوامی فلاح اور جامع اقتصادی ترقی سے متعلق امور زیر بحث آئے، مالی سال 27-2026 کے لیے معاشی حکمت عملی اور ترقیاتی اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکام  کے مطابق بجٹ 27-2026 10 جون کو پیش کرنے کی وزیراعظم کو سفارش پر اتفاق کیاگیا ہے، ذرائع نے بتایا حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان بجٹ پر مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور عوامی فلاح، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی استحکام کو بجٹ کی اہم ترجیحات قرار دیا گیا، وفاقی بجٹ کی تیاری کے سلسلے میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا عمل آخری مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کا حجم 17.1 ٹریلین روپے، معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد تجویز ہے اور اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ جلد وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوگا جس میں اگلے مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی، سالانہ ترقیاتی منصوبے کی منظوری دی جائے گی جس کے بعد اقتصادی کارکردگی پر مشتمل رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروےجاری ہوگا۔

وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ 27-2026 کا حجم 17.1 ٹریلین روپے، معاشی شرح نمو کا ہدف 4.1 فیصد تجویز ہے جبکہ اوسط مہنگائی 8.4 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے، پیٹرولیم لیوی کا ہدف ایک ہزار 727 ارب تجویز ہے، آئندہ مالی سال کا ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے، وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1.1 ٹریلین روپے متوقع ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قرضوں پر سود کے لیے7 ہزار 824 ارب رکھنے، دفاعی شعبے کے لیے 2 ہزار 665 ارب رکھنے کی تجویز ہے، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 2768 ارب روپے متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی 7 سے 10 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جبکہ تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر بجٹ سے پہلے ہی حکومت اور سرکاری ملازمین کے درمیان تنازع بھی شروع ہوگیا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملازمین اور پنشنرز کو مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دینے کا عندیہ دیا ہے تاہم سرکاری ملازمین نے تنخواہوں اور پنشن میں 100 فیصد تک اضافے کا مطالبہ کررکھا ہے، سرکاری ملازمین کی تنظیم کی جانب سےبجٹ سے ایک روز پہلے وزارت خزانہ اور بجٹ والے دن پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا عندیہ دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اگر چارٹر آف ڈیمانڈز پر عمل نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

Load Next Story