لبنان میں مزاحمت کی حمایت اور اسرائیل کا خاتمہ تمام مسلمانوں پر فرض ہے؛ ایران
ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر نے لبنان جنگ بندی کو مسترد کردیا
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی 'قدس فورس' کے سربراہ جنرل اسماعیل قانی نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ لبنان تنازع کے حل اور جنگ بندی کے لیے ہمارا کم از کم مطالبہ اسرائیل کا فوری طور پر جنگ شروع ہونے سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جانا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی جنرل اسماعیل قانی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں زور دیا کہ لبنانی عوام اور وہاں سرگرم مزاحمتی تحریکوں کی مدد کرنا دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی اولین اور مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس خطے سے دنیا کی متنازع ترین صہیونی ریاست اسرائیل کے تسلط کا خاتمہ ایک ایسا ہدف ہے جسے تمام مسلمان متحد ہو کر ہی حاصل کرسکتے ہیں۔
ایرانی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے امید ظاہر کی کہ لبنان میں جاری جدوجہد رنگ لائے گی اور مزاحمت کاروں کی قربانیوں کے مثبت نتائج بہت جلد سب کے سامنے ہوں گے۔
کمانڈر اسماعیل قانی نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جب تک خطے میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند نہیں ہوجاتا مزاحمت کا دائرہ کار برقرار رہے گا۔ لبنان کے مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی فوج کا انخلا تک خطے میں استحکام نہیں آسکتا۔
قبل ازیں ایرانی پاسداران انقلاب کے ترجمان کی جانب سے جاری میں اسرائیل کو یاد دلایا گیا ہے کہ امریکا کیساتھ امن مذاکرات میں ایران کی ابتدائی شرط بھی لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی تھی۔
ادھر حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے بھی حالیہ بیان میں کہا کہ اسرائیل کا لبنان کے جنوبی علاقوں سے مزاحمتی جنگجوؤں کے انخلا کا مطالبہ ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ کسی بھی سطح پر ہونے والے مذاکرات یا معاہدے میں لبنان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا اور لبنان کسی بھی حتمی جنگ بندی کا لازمی اور غیر مبہم حصہ ہوگا۔