کراچی؛ بجلی اور گیس بندش کیخلاف علاقہ مکینوں کا لیاری ایکسپریس وے کو بلاک کر احتجاج
گلبہار کے علاقے میں بجلی اور گیس کی بندش کے خلاف علاقہ مکینوں نے لیاری ایکسپریس وے کو بلاک کر احتجاج اور متعلقہ حکام کے خلاف نعرے لگائے ، احتجاج کے باعث ماڑی پور سے سہراب گوٹھ جانے والے لیاری ایکسپریس وے پر بدترین ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کی کئی کلو میٹر لمبی قطاریں لگ گئیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مشکلات اور دقت کا سامنا کرنا پڑ گیا جس کے باعث وہ اپنی گاڑیاں بند کر کے باہر نکل آئے اور راستہ کھلنے کا انتظار کرتے رہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لیاری ایکسپیریس وے سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں ٹریفک جام کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فوری اقدامات کر کے ٹریفک بحال کرانے کا حکم جاری کر دیا۔
احتجاج کی اطلاع ملنے پر کی نفری بھی موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو بات چیت کے ذریعے منتشر ہونے اور لیاری ایکسپریس وے کو ٹریک کو کھولنے کے لیے مذاکرات بھی کیے گئے تاہم مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی اور سوئی کی بندش نے مکینوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہوا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں نہ تو بجلی ہے اور نہ ہی گیس آرہی ہے ان حالات میں کس طرح سے زندگی گزاریں ، کوئی پوچھنے والا نہیں کہ اس شہر کے مکین زندگی کی بنیادی سہولتوں بجلی ، سوئی گیس اور پانی کو ترس رہے ہیں اور اعلیٰ حکومتی شخصیات اپنی شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، انھیں اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ عوام کو کن کن مسائل کا سامنا ہے اور وہ کس طرح سے زندگی کی بقا کے لیے اپنی جنگ لڑ رہے ہیں۔
حکمرانوں نے عوام کو متبادل ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے کام پر لگا دیا، بجلی نہیں آتی تو سولر لگالو اور اگر وہ نہیں لگا سکتے تو بیٹری سے چلنے والے پنکھے اور بلب لگا لو ، گیس نہیں آرہی تو ایل پی جی کا گیس سلنڈر خرید کر استعمال کرو ، پانی نہیں آتا تو باہر سے خرید کر لے آؤ، ان سب مسائل کا حل اگر عوام کو ہی نکالنا ہے تو ٹیکس کس بات کا لیا جاتا ہے ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ متعلقہ حکام کو پابند کیا جائے کہ ان کے علاقے میں بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاہم پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد مظاہرین کو بات چیت کے بعد منتشر کر کے ماڑی پور سے سہراب گوٹھ جانے والے لیاری ایکسپریس وے کے ٹریک پر ٹریفک بحال کرا دیا تاہم ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے احتجاجی مظاہرے نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا اور ٹریفک کی روانی میں بہتری آنے تک کافی وقت لگ گیا اور اس دوران گاڑیاں رینگتی ہوئی چلتی دکھائی دیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شہر میں ٹریفک جام کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف اور ڈی آئی جی ٹریفک کو فوری اقدامات کا حکم جاری کرتے ہوئے ہدایت دیں کہ ماڑی پور سے سہراب گوٹھ لیاری ایکسپریس وے پر فوری ٹریفک بحال کرایا جائے جبکہ ایکسپو سینٹر ، بزنس روڈ اور گرومندر سمیت ملحقہ علاقوں میں ٹریفک پولیس کی اضافی نفری کو تعینات کیا جائے اور شہریوں کی سہولت کے لیے متبادل راستوں کے ذریعے ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے ۔