سابق انگلش کپتانوں نے لارڈز کی پچ کے معیار پر سوالات اٹھا دیے

روٹ اور ولیمسن جیسے عالمی معیار کے بلے بازوں کی ناکامی بھی پچ کی مشکل صورتحال کی واضح مثال ہے، سابق کپتان

لارڈز میں جاری انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹیسٹ میچ کی پچ سابق کرکٹرز اور ماہرین کی شدید تنقید کا نشانہ بن گئی ہے۔

میچ کے ابتدائی دو دنوں میں ہر 25 گیندوں کے بعد ایک وکٹ گرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیٹنگ کرنا کس قدر مشکل ثابت ہوا ہے۔

سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے پچ کو ’معیار سے کم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر متوقع باؤنس اور تیز گیند بازوں کو ملنے والی اضافی مدد نے بلے بازوں کے لیے حالات انتہائی دشوار بنا دیے ہیں۔

ان کے مطابق بعض گیندیں غیر معمولی طور پر نیچی رہیں جبکہ کچھ اچانک زیادہ اچھال کے ساتھ آئیں، جس سے بیٹنگ تقریباً ناممکن محسوس ہوئی۔

ایک اور سابق کپتان مائیکل وان نے بھی پچ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں بیٹ اور بال کے درمیان متوازن مقابلہ ہونا چاہیے لیکن اس میچ میں تمام تر فائدہ گیند بازوں کو حاصل رہا۔

انہوں نے جو روٹ اور کین ولیمسن جیسے عالمی معیار کے بلے بازوں کی ناکامی کو بھی پچ کی مشکل صورتحال کی مثال قرار دیا۔

دوسری جانب نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولر نیتھن اسمتھ کا کہنا ہے کہ بادلوں سے ڈھکے موسم اور سازگار حالات نے بھی پچ کے رویے پر اثر ڈالا۔

ان کے مطابق دھوپ نکلنے کی صورت میں بیٹنگ نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔

تاہم مجموعی طور پر لارڈز کی پچ اس وقت کرکٹ حلقوں میں بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

Load Next Story