سیاسی جماعتوں اور عوام کا آبنائے ہرمز
ایک بحث کے گرداب میں جس کا مقصد لین دین ہے، وہ یہ کہ 18ویں ترمیم کا خاتمہ اور کراچی کو ایک نیا انتظامی یونٹ بنانا ہے۔
بحث برائے بحث کے قائل لوگ اس بات پر بضد ہیں کہ ایسا کرنے سے کراچی کی ٹوٹی ہوئی سڑکیں تعمیر ہو جائیں گی، پانی کا شدید بحران حل ہو جائے گا، ہر برس معمولی سی بارش پر سیلاب پیدا نہیں ہوگا۔
نئی سڑک بار بار نہیں کھودی جائے گی، جہاں بی آر ٹی انڈر پاس جیسے پروجیکٹس وقت پر مکمل ہو جائیں گے، جہاں درخت لگا دیے جائیں گے، اربن پلاننگ کے نام پر رہائشی علاقوں کو کمرشل علاقوں میں تبدیل کرنا چھوڑ دیں گے، عوام ایک لین میں گاڑی چلانا شروع کریں گے، عوام نمود و نمائش کے طور پر اپنی گاڑیوں میں رات کی تاریکیوں میں چمکیلی سفید (فلیش) لائٹ مارنا چھوڑ دیں گے۔
جہاں بڑے بڑے ڈالے والے چھوٹی گاڑیوں کو، اگر وہ کسی مجبوری کے تحت رائٹ لین سے مڈل ٹریک پر شفٹ نہ ہو پائیں، تو پیچھے سے ہارن بجا کر دباؤ ڈال کر ایک 800 سے 1000 سی سی گاڑی کو ٹریک تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کریں گے۔
جہاں رکشہ والے اور بائیک والے اپنی چھوٹی سی سواری کا فائدہ اٹھانا چھوڑ دیں گے اور ایک ٹریک پر رہیں گے، جہاں رانگ وے کا تصور جرم سمجھا جائے گا، جہاں ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک لوگوں کو کچلنے کی خبریں معمول نہ ہوں گی۔
جہاں شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹس کا جلنا ایک معمول اور بنیادی شہری حق سمجھا جائے گا، جہاں باہر سے کچھ آنیوالے کراچی کو ایک سونے کا نوالہ سمجھنا چھوڑ دیں گے، تہذیب کے دائرے میں رہیں گے، جہاں تجاوزات کسی بھی نوعیت کی ہوں جرم سمجھی جائیں گی۔
جہاں اس تصور کو زائل کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جائے گی کہ بغیر اے سی کے بھی گزارا ہو سکتا ہے، اگر ہم چھوٹے چھوٹے درخت لگانا شروع کر دیں، جہاں بہت سے گراؤنڈ کھیلوں کی سرگرمی کے لیے بنائے جائیں گے۔
اس خوف کے برخلاف کہ وہ چائنا کٹنگ کا شکار نہیں ہو جائیں گے، جہاں سڑکوں کے عین بیچ میں گٹر نہیں ہوں گے، جہاں گٹر ہوں گے تو ڈھکن کیساتھ ہوں گے، جہاں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور غیر اعلانیہ فالٹس شہری زندگی کو یرغمال نہیں بنائیں گے۔
جہاں پبلک ٹرانسپورٹ ایک خواب نہیں بلکہ شہری حق ہوگی، جہاں سرکاری اسپتالوں میں مریض فرش پر نہیں پڑے ہوں گے، جہاں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں کھنڈر نہیں ہوں گی، جہاں سیوریج کا پانی پینے کے پانی میں شامل نہیں ہوگا۔
جہاں فٹ پاتھ واقعی پیدل چلنے والوں کے لیے ہوں گے، جہاں پارکس قبضہ مافیا کے رحم و کرم پر نہیں ہوں گے، جہاں سمندر کنارے کچرے کے ڈھیر شہر کی شناخت نہیں ہوں گے، جہاں ہر انتخاب کے بعد کچرے کے پہاڑ، ٹوٹی سڑکیں اور ادھورے منصوبے عوام کی قسمت نہیں سمجھے جائیں گے۔
جہاں نوجوان روزگار کی تلاش میں شہر چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوں گے، جہاں بلدیاتی ادارے صرف نام کے نہیں بلکہ اختیار اور وسائل کے حامل ہوں گے، جہاں سرکاری زمینوں پر قبضے اور کاغذی ترقیاتی منصوبے معمول نہیں ہوں گے۔
جہاں ٹینکر مافیا، لینڈ مافیا، تجاوزات مافیا اور کچرا مافیا ریاست سے زیادہ طاقتور نہیں ہوں گے، جہاں ایک شہری کو اپنے جائز کام کے لیے سفارش، رشوت یا تعلقات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
جہاں ہر چند ماہ بعد کسی نئی میگا اسکیم کا اشتہار تو لگ جائے گا مگر عوام کو اس کا نتیجہ دیکھنے کے لیے اگلی حکومت کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا، جہاں پل اور سڑکیں افتتاح کے چند ہفتوں بعد بیٹھ نہیں جائیں گی۔
جہاں نکاسی آب کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایک بارش شہر کو وینس بنانے کی روایت ختم ہو جائے گی، جہاں فائر بریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کے لیے پانی موجود ہوگا، جہاں کسی فیکٹری، عمارت یا مارکیٹ میں آگ لگنے کے بعد ہمیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ ایمرجنسی رسپانس کا نظام صرف فائلوں میں موجود تھا۔
جہاں شہریوں کو گیس کے حصول کے لیے سردیوں میں دعاؤں کا سہارا نہیں لینا پڑے گا، جہاں پانی کی لائنیں اور سیوریج لائنیں ایک دوسرے سے ایسے نہیں ملیں گی جیسے ان کا ایک ہی انجینئر ہو، جہاں فٹ اوور برج صرف تصویروں کے لیے نہیں بلکہ استعمال کے قابل بھی ہوں گے۔
جہاں معذور افراد کے لیے شہری سہولیات کسی خیرات کا نہیں بلکہ حق کا درجہ رکھتی ہوں گی۔ جہاں سرکاری ادارے ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کے بجائے اپنی ذمے داری قبول کریں گے، جہاں کسی سڑک پر گڑھا پڑنے کے بعد یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ اس کا مالک کون سا ادارہ ہے۔
جہاں شہری کو یہ جاننے کے لیے گوگل نہیں کھولنا پڑے گا کہ اس کے محلے کا اختیار کس کے پاس ہے، جہاں شہر ایک تجربہ گاہ نہیں بلکہ ایک قابلِ رہائش جگہ سمجھا جائے گا، جہاں ہر پانچ سال بعد کراچی کو بچانے کا نعرہ لگانیوالے یہ تسلیم کریں گے کہ شہر نعروں سے نہیں بلکہ انتظامی صلاحیت سے چلتے ہیں۔
جہاں ساحل سمندر، تاریخی عمارتیں، ثقافتی مراکز اور عوامی مقامات قبضوں، بدانتظامی اور غفلت کا شکار نہیں ہوں گے، جہاں نوجوانوں کے لیے کھیل، تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا کسی سیاسی جماعت کا انتخابی وعدہ نہیں بلکہ مستقل پالیسی ہوگا۔
جہاں شہر کے باسیوں کو اپنے ہی شہر میں اجنبی ہونے کا احساس نہیں ہوگا، جہاں ٹیکس دینے والا شہری یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہوگا کہ اس کے پیسے آخر خرچ کہاں ہو رہے ہیں اور جہاں جواب دینے والے ادارے بھی موجود ہوں گے۔
جہاں کراچی پاکستان کی معیشت کا انجن کہلانے کیساتھ ساتھ شہری زندگی کے بنیادی معیار پر بھی پورا اترتا ہوگا، نہ کہ صرف تقریروں، سیمیناروں اور بجٹ دستاویزات میں۔ اس کے بعد جا کر کچھ کرپشن کے معاملات حل ہو جائیں گے۔
قصہ المختصر یہ کہ 1800 آئینی ترامیم آ جائیں، کراچی اوپن گراؤنڈ بن چکا ہے کہ جو جس کا دل چاہے کرے۔ لہٰذا یہ بحث کہ وفاق کے زیر انتظام آنے سے معاملات ٹھیک ہو جائیں گے، ایک خواب غفلت ہے یا انا کی جنگ ہے۔ ہمارے اندر اگر کلی تو نہیں مگر ایک بے حسی آ چکی ہے۔
اس بدانتظامی کا فائدہ حکمران پارٹی کو ہی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ دوسرا فریق صرف اُن پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، کیونکہ کسی کے بس میں نہیں کہ کراچی کو صرف سنبھال سکے، ترقی تو دور کی بات ہے۔
اسی وجہ سے حکومت نے عید کے روز ایسا کارڈ کھیلا کہ سب چیک میٹ ہو گئے۔ کیونکہ کراچی کے نام پر سیاست کرنیوالے سب جانتے ہیں کہ یہ شہر اب ایک انتظامی مسئلہ کم اور ایک سیاسی ہتھیار زیادہ بن چکا ہے۔
کوئی اسے صوبائی خودمختاری کیخلاف حملہ قرار دیتا ہے کوئی اسے شہری حقوق کی جنگ کہتا ہے، کوئی اسے قومی معیشت کا مقدمہ بناتا ہے اور کوئی اسے اپنے ووٹ بینک کی بقا کا سوال۔ مگر ان تمام بحثوں میں کراچی کا شہری کہیں موجود نہیں۔
وہ روزانہ پانی، بجلی، ٹریفک، کچرے، تجاوزات، مہنگائی، جرائم اور ناقص انفراسٹرکچر کے درمیان پس رہا ہے جب کہ اس کے نام پر سیاسی شطرنج کھیلی جا رہی ہے۔
ن لیگ کو کراچی سے کوئی دلچسپی نہیں۔ ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی اپنی سیاسی مجبوریوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور عوام اپنی بے حسی میں۔ لیکن ہاں، اپنے مفادات کے لیے ہر فریق کراچی کو آبنائے ہرمز کے طور پر رکھنا چاہتا ہے کہ جہاں ضرورت پڑے گی وہاں اپنا پتہ کھیلیں گے۔
جب صوبائی حکومت کو اپنے ووٹر کو متحرک کرنا ہوگا تو کراچی یاد آ جائے گا، جب کسی جماعت کو اپنے سیاسی وجود کا جواز پیش کرنا ہوگا تو کراچی یاد آ جائے گا۔
مگر جب شہر کی گلیوں، سڑکوں، نالوں، اسپتالوں، اسکولوں اور شہری مسائل پر مستقل توجہ دینے کی بات آئے گی تو سب کی ترجیحات تبدیل ہو جائیں گی۔کراچی شاید پاکستان کا سب سے زیادہ استعمال ہونیوالا سیاسی نعرہ ہے، لیکن سب سے کم سنجیدگی سے لیا جانیوالا شہر بھی۔ یہی اس کا اصل المیہ ہے۔