نئے صوبے
کبھی کبھی ایسا بیانیہ بن جاتا ہے جو زمین سے جڑ نہیں پاتا ، اس بیانیہ کے حقائق، زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے پھر کتنا مشکل ہو جاتا ہے ،ایسے بیانیے کا کاؤنٹر بیانیہ بنانا۔ وقت کا پہیہ تیزی گھومتا رہتا ہے،ہم تاریخ کے پنوں سے آگے نکل جاتے ہیں، جو ہوتا ہے وہ ماضی بن کر رہ جاتا ہے، تاریخ آگے نکل جاتی ہے اور بات وہیں رہ جاتی ہے۔
کل تک جو ون یونٹ تھاآج ویسی ہی بات کو بتیس صوبوں کی صورت میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔یہ بات آج کی نہیں ہیں ،یہ ایسی ہی باتیں ہیں جیسے ماضی میں کالا باغ ڈیم کی تھیں۔ ایسی باتیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں۔
آئینی بات یہ ہے کہ اگر کسی منصوبے میں رضا مندی اور اتفاق ہو، وفاق اور صوبوں کا ،تو پھر ان پر عمل کرنے میں حرج بھی نہیں ہے۔
یہی بات بے نظیر صاحبہ بھی کہتی تھیں اور ایسا ہی میاں نواز شریف بھی کہتے تھے کہ کالا باغ ڈیم صوبوں کی رضامندی اور اتفاق سے بنے گا اور ایسا ہی پاکستان کا آئین بھی کہتا ہے۔صوبوں کی سرحدوں کی درجہ بندی کے لیے صرف پارلیمان کی دو تہائی اکثریت درکار نہیں ہوتی بلکہ اس متعلقہ صوبے کی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت بھی لازمی ہوتی ہے۔
آئین میں صوبوں کی درجہ بندی یا ترتیب دینا بھی اسی طرح سے ہی ہے جیسے بین الاقوامی قوانین کے تحت کسی ملک کی ہوتی ہے ۔
امریکا کے آئین کے وجود میں آنے کے بعد آئین کے تحت، آئین میں کوئی ترمیم لانے کے لیے امریکا کی ریاستوں (صوبوں)کی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور اسی لیے ڈھائی سو برس بیت گئے لیکن امریکا کی ریاستوں یعنی صوبوں کی سرحدوں میں ردوبدل نہیں کیا گیا۔
میرے وہ دوست جو اس بات کے حق میں ہیں کہ نئے صوبے ضرور بننے چاہئیںتو ان کے لیے میرا یہ کہنا ہے کہ وہ ضرور اپنا شوق پورا کریں مگر آئین کے دائرے میں رہ کر۔ایسا نہ ہو کہ ان اقدامات کے نتیجے میں ہم اپنے ہی آئین کی دھجیاں بکھیر دیں۔
ایسا کرنا آئین پر یلغار ہوگی جیسا کہ شب خون۔آئین میں ترمیم پارلیمان کی دو تہائی اکثریت کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔آئین کے آرٹیکل 239(4) میں یہ طریقہ کار موجود ہے ، اس کو تبدیل کر کے ایسا بنایا جائے کہ صوبوں کی رضامندی کا سوال ہی ختم ہوجائے اور صرف وفاقی پارلیمان کی دوتہائی اکثریت درکار ہو۔
صوبوں کی حدود کی درجہ بندی کے لیے متعلقہ صو بے کی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔آئین میں ایسی ترامیم کے لیے بھی صوبوں کی مرضی بھی درکار ہے، اس لیے ہمارے آئین میں عملاً صوبوں کی سرحد توڑنے یا تبدیل کرنے کا تصور نہیں ہے۔
ہندوستان کے آئین میںایسی کوئی بات نہیں ہے۔وہاں یونین (وفاقی) پارلیمان کی دو تہائی اکثریت کافی ہے، لیکن ریاست کی رضامندی بھی لی جاتی ہے لیکن یونین کی(وفاقی) پارلیمان اس پر لازم عمل کرے، ایسا بھارتی یونین (وفاقی) پارلیمان پر لازم نہیں ہے۔ ہندوستان میں صوبے بنے۔اس بارے میں ان کے آئینی ماہر ڈاکٹر باسو یہ کہتے ہیں کہ یہ ریاستیں صدیوں سے ہندوستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا ان کی پہچان ہندوستان بھی ہے ۔
حقائق کی دنیا مختلف ہوتی ہے ۔ ہندوستان آزاد وخود مختار ریاستوں پر مشتمل ایک وسیع و عریض خطہ یا علاقہ ہے۔ مختلف ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ بھی کرتی رہیں، اگر وہ کبھی دہلی کے مقابلے میں کمزور ہوتی تو خراج وغیرہ دے کر بھی آزاد حیثیت برقرار رکھتی تھیں۔ اکبر بادشاہ نے زیادہ تر ریاستوں پر قبضہ کیا اور پھر جب مغلیہ سلطنت کمزور ہوئی تو یہ ریاستیں آزاد ہوگئیں۔آزاد ہونے کے بعد انگریز سامراج ان ریاستوں پر قابض ہوا۔
Independance Act, 1947 بھی یہی کہہ رہاتھا کہ ہندوستان آزاد ہو رہا ہے اور باقی ریاستیں (صوبے) بھی آزادی پا کر ایک نیا ملک ترتیب دے رہی ہیں،جس کا نام ہوگا پاکستان۔ برطانوی پارلیمان نے ’’پاکستان‘‘ کا نام جناح صاحب یا مسلم لیگ کے مشورے سے ڈالا ،حالانکہ یہ نام نیشنل موومنٹ کے نوجوان قائد چوہدری رحمت علی نے متعارف کرایا تھا۔بلوچستان کی قلات اسمبلی نے 1948 میں ایک قرارداد کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ان حقائق کو نہ صرف سماجی، سیاسی بلکہ آئینی یا پھر ایک قانون دان (Jurist) کی طرح پرکھنا لازمی ہے۔
آج بنگلا دیش میں وہ تاریخ نہیں پڑھائی جاتی جو کہ 1971 سے پہلے مشرقی پاکستان میں پڑھائی جاتی تھی۔1971 سے پہلے پاکستان کی دو سرکاری زبانیں تھیں ،ایک اردو اور دوسری بنگالی ۔بنگالی قوم اپنی زبان سے نہیں نکل سکی۔، لہٰذا 1971 کے بعد وہاں اردو کا وجود باقی نہ رہا۔
پاکستان میں اردو کے بعد سندھی ایسی زبان ہے جس کے اخبارات اور ٹی وی چینلز اورشوشل میڈیا، ڈیجیٹل چینلز پنجابی زبان سے زیادہ ہیں حالانکہ پنجاب کی آبادی تیرہ کروڑ یا پھر اس سے تھوڑا کم ہوگی جو پورے ایران کی آبادی سے زائد ہے۔
مگر پنجابی زبان کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی۔پنجاب میں رہنے والے ستر فیصد لوگ وفاق میں کام کرتے ہیں، ان کی نظر میں مقامی زبانوں، کلچرل و ثقافت کی اہمیت نہیں ہے بلکہ اختیار، پاور، معاشی مفادات اور اپر کلاس کلچرل کی اہمیت ہی حتمی و آخر ہے۔
پاکستان بننے سے پہلے پنجاب میں اردو زبان موجود تھی۔ اس لیے انھیں اردویا دیگر علاقائی زبانوں سے کوئی ڈر یا خوف نہیں تھا اور نہ اب ہے۔ انگریز حکومت نے بھی پنجابی زبان کی ترویج بھی کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی پنجاب کی یونینسٹ حکومت نے پنجابی زبان کی سرپرستی کی۔پاکستان قائم ہوا تو مسلم لیگ کی ٹاپ قیادت کی ترجیحات میں بھی پنجابی زبان کی ترقی شامل نہیں تھی۔
گورنرجنرل، ابتدائی وزرائے اعظم،آئین ساز اسمبلی کے اسپیکر، فوجی سربراہان و دیگراہم افسران کا پنجابی زبان کے بارے میں پالیسی عدم توجہ کے اصول پر رہی جب کہ1947 سے پہلے کراچی کے اسکولوں میں سندھی زبان پڑھائی جاتی تھی۔
یہاں دو سرکاری زبانیں تھیں، ایک انگریزی اور دوسری سندھی۔اب سندھ میں اردو اور سندھی زبان کا تضاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی طرح سندھی اور اردو بولنے والوں کے تضادات بھی کم ہو چکے ہیں اور مزید کم ہوںگے کیونکہ جن لوگوں نے نفرتوں کے بیج بوئے ، ان لوگوں کو اپنے ہی ووٹروں نے الوداع کہہ دیا ہے۔ سندھی اور اردو زبانیں ، پنجابی زبان سے زیادہ بولی اور سمجھی جاتی ہیں۔
سندھ کی موجودہ حکومت کے سترہ سال اگر بری حکمرانی کی بدترین مثال ہیں تو پھر سوال یہ بھی ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ اور جنرل مشرف کے دور میں بلدیہ کا نظام اسلام آباد سے چلایا جاتا تھا، اس وقت کراچی کے لیے یا کراچی کے ساتھ کیا ِ،کیا گیا؟ اس کا جواب بھی ملنا چاہیے۔
نئے صوبوں کی بازگشت کراچی سے زیادہ اسلام آباد میں سنی جا رہی ہے۔ سیاستدان ہوں ، تجزیہ کار ہوں ، دانشور ہوں یا صحافی صاحبان وہ جس پر چاہیں نظر رکھیں لیکن کوئی صحتمندانہ بیانیہ اپنائیں، کوئی مضبوط کارڈ متعارف کرائیں، ایسے کارڈ جو وفاق کو مضبوط بنائے نہ کہ کمزور۔کراچی کے لوگ بشمول سندھ کی مڈل کلاس وڈیروں کا نعم البدل ہے۔
بد نصیبی یہ ہے کہ سندھ کا نچلہ یا متوسط طبقہ اگر وڈیروں کے شکنجے سے نکلتا ہے تو قوم پرست بن جاتا ہے اور جی ایم سید کے افکار کو بہتر سمجھنے لگتا ہے۔ایسے ہی نادان دوستوں نے وڈیروں کی سیاست کو مضبوط بنایا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سندھ کی مڈل کلاس چاہیے وہ اردو بولنے والے ہیں یا سندھی بولنے والے ، وہ سب مل کر وڈیرہ شاہی نظام کو چیلنج کریں۔
بدقسمتی سے آج کراچی ایسے بحران سے گزر رہا ہے کہ اس شہر کو ایک انتہائی مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے اور یہ نظام وڈیروں کی نمایندہ جماعتوں کی قطعاً ترجیح نہیں ہوتا اور نہ ہی لسانی عصبیتوں کی حامل قیادت ایسا کرپائے گی ۔
اصولاً پیپلز پارٹی خود اپنی صفوں میں توازن پیدا کرے، اگر ایسا نہ ہوا تو یاد رکھیں، آپ مریم نواز کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔