نرسنگ کونسل نے 55 کالجز کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی

کروڑوں روپے جرمانہ کے عوض 4 غیر رجسٹرڈ کالجز کو طلباء کے بہتر مستقبل کی خاطر چار سال بعد رجسٹریشن دے دی گئی

اسلام آباد:

پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل نے تشکیل نو کے بعد 55 کالجز کی رجسٹریشن کی منظوری دے دی، کروڑوں روپے جرمانہ کے عوض 4 غیر رجسٹرڈ کالجز کو طلباء کے بہتر مستقبل کی خاطر چار سال بعد رجسٹریشن دے دی گئی۔

پاکستان نرسنگ کونسل اینڈ مڈوائفری کونسل ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ نرسنگ کونسل کی کہانیاں نہ ختم ہونے والی ہیں پوری رات بات کروں تو بھی ختم نہیں ہوگی، نرسنگ کونسل کے شعبے کی زبوں حالی میں انڈیا کی کوئی سازش نہیں، بلکہ ہماری اپنی کارکردگی کا فقدان ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ اعداد و شمار چیخ چیخ کر صورتحال بتا رہے ہیں پاکستان میں 9 لاکھ نرسز کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ تعداد صرف 6 ہزار ہے، پڑوسی ملک میں 6 لاکھ نرسز کام کر رہی ہیں  دنیا بھر میں 25 لاکھ نرسز کی کمی ہے۔

مصطفی کمال نے کہا کہ سابقہ صدر کی ڈگری جعلی نکلی، الیکشن بھی جعلی تھا ڈپٹی رجسٹرار کے ساتھ مل کر یہ ایک مافیا بن چکا تھا کروڑوں روپے کی ڈیمانڈکی جا رہی تھیں، نام لے کر پیسے مانگے جاتے تھے۔ عدالت کے احکامات کے باوجود چارج نہیں لینے دیا گیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کرپشن کروانی ہوتی تو پرانے والوں سے دوستی کیوں نہ کرتا؟ وہ تو پیسے بنانے کی مشین تھے۔ چیلنج ہے ثبوت لاوٴ، ایک چائے کی پیالی کی رسید دکھاوٴ، میں تادیبی کارروائی نہ کروں تو میں مجرم ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اس مافیا کے خلاف ایکشن کے لیے حکومت نے آرڈیننس جاری کیا اب نرسنگ کونسل کا صدر گریڈ 22 کا افسر ہوگا جواب دہ ہوگا، 19 رکنی نئی کونسل تشکیل دے دی گئی ہے، اگر آرڈیننس لیپس بھی ہوجائے تو اس دوران ہونے والے فیصلوں کو سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا تحفظ حاصل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مارچ 2025ء کے بعد نرسنک کونسل میں ایک بھی کالج رجسٹرڈ نہیں ہوا۔ 425 کالجز کی درخواستیں انسپیکشن کی منتظر ہیں۔ دو سال سے انسپیکشن سیل لفافوں میں بند تھی اور لاکھوں کی بارگین چل رہی تھی۔ نئی کونسل نے 63 میں سے 55 کالجز کو ترجیحی بنیاد پر منظوری دے دی ہے۔مصطفی کمال کا وعدہ ہے: "ہم ایسا ڈیجیٹل نظام بنا کر جائیں گے کہ ابلیس بھی آ جائے تو شیطانی نہ کر سکے"۔ انہوں نے والدین کو خبردار کیا کہ غیر رجسٹرڈ کالجز میں داخلہ نہ کروائیں، ورنہ آپ کے بچوں کا مستقبل داوٴ پر لگ جائے گا۔

 

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال کا کہنا ہے کہ سابقہ نرسنگ کونسل میں کرپشن کا بازار گرم تھا،دو سال سے انسپیکشن سیل لفافوں میں بند تھی اور لاکھوں کی بارگین چل رہی تھی،

Load Next Story