خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین نے صوبائی حکومت اور قیادت پر سوالات اٹھا دیے

ناراض اراکین بیرسٹر گوہر کے ساتھ مذاکرات پر رضامند، بانی کی رہائی کیلیے ملک گیر تحریک شروع کرنے کا بھی عندیہ

عید کے فوراً بعد نگراں کابینہ کے حلف کے بعد کابینہ کا اجلاس منعقد ہوگا، ذرائع۔ فوٹو : فائل

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکین نے کے پی حکومت اور صوبائی قیادت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں پر سوالات اٹھا دیے جبکہ اپنی شرائط بھی پیش کی ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض ارکان نے صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں پر سوالات اٹھاتے ہوئے  ناراض نے سوال کیا ہے کہ کیا یہ ملاقاتیں عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہیں؟ کیا ان ملاقاتوں کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقاصد سے پارٹی کارکنان اور پارلیمانی کمیٹی کو کیوں آگاہ نہیں کیا جاتا؟۔

ناراض ارکان نے پارٹی چیرمین بیریسٹرگوہر کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا اجلاس پشاور میں ہوا،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بعض عناصر دانستہ طور پر اس تحریک کو کسی مخصوص شخصیت یا گروپ سے منسوب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ عمران خان کی رہائی تحریک کا واحد مقصد اور ان کے وژن کی پیروی ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی رہائی اس کے علاوہ نہ کوئی اور ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا مقصد ہے۔ ناراض اراکین نے تفصیلی مشاورت کے بعد اپنے مطالبات پیش کردیے۔

ناراض ارکان نے پہلا مطالبہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا رکھتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی مطالبہ کرتی ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے جامع اور واضح حکمتِ عملی وضع کی جائے، گزشتہ اعلامیے میں بھی یہ ہی مطالبہ کیا گیا تاہم اس سلسلے میں تاحال کوئی قابلِ ذکر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔

مشاورتی کمیٹی نے اس پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا اور ایک مرتبہ پھر زور دیا کہ جلد از جلد واضح حکمتِ عملی مرتب کرکے عملی اقدامات کیے جائیں۔

ناراض اراکین کی کمیٹی نے دوسرا مطالبہ صوبائی قیادت اور حکومت کی جانب سے حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور ان کے قائدین سے مسلسل ملاقاتوں پر تحفظات کا اظہار کیا اور سوال کیا کہ یہ ملاقاتیں عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہیں؟ کیا ان ملاقاتوں کا ایجنڈا عمران خان کی رہائی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ان ملاقاتوں کی نوعیت اور مقاصد سے پارٹی کارکنان اور پارلیمانی کمیٹی کو کیوں آگاہ نہیں کیا جاتا؟

اعلامیے میں کہا گیا کہ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ مختلف شخصیات کی اپوزیشن قائدین سے ملاقاتیں جاری رہتی ہیں جن کے بارے میں نہ کارکنوں کو آگاہ کیا جاتا ہے، نہ پارلیمانی کمیٹی کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، اور نہ ہی ان ملاقاتوں کے مقاصد واضح کیے جاتے ہیں۔

ناراض اراکین نے تیسری شرط چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر سے ملاقات رکھی اور کہا کہ وہ باقاعدہ طور پر عمران خان رہائی تحریک کیلیے بنائی گئی مشاورتی کمیٹی سے رابطہ کریں گے۔

کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر چند نمائندگان کے نام تجویز کیے ہیں تاکہ ان کے ساتھ جلد از جلد باقاعدہ نشست منعقد کی جا سکے اور عمران خان رہائی تحریک کو مزید مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مشاورتی کمیٹی برائے عمران خان رہائی تحریک، صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ عنقریب پورے پاکستان میں پاکستان تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے تمام پارلیمنٹیرینز، تنظیمی عہدیداران، ٹکٹ ہولڈرز اور دیگر بااثر شخصیات سے رابطہ کرکے انہیں اس تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی جائے گی تاکہ عمران خان کی رہائی کے لیے ایک مؤثر، متحد اور منظم جدوجہد کو مزید وسعت دی جا سکے۔

Load Next Story