شہر کے پارکس ، کھیل کے میدان اور بچے
حال ہی میں کراچی شہر میں شاہراہ فیصل پولیس آفس کے قریب ایک تیز رفتار ٹریکٹر کی ٹکر سے بچہ جاں بحق ہو گیا۔ یہ 12سالہ بچہ قریبی اپارٹمنٹ کارہائشی تھا اور اپنی سائیکل گھر کے قریب چلا رہا تھا۔ میڈیا میں یہ چھوٹی سی خبر ہے مگر والدین کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں۔
یہاں سوال یہ نہیں ہے کہ قصور کس کا تھا، بچے کا یا ٹریکٹر چلانے والے کا؟ اصل سوال یہ ہے کہ بچوں کے کھیلنے کے لیے جب جگہ دستیاب نہیں ہوگی تو پھر وہ کہاں کھیلیں گے؟ اس بچے کو یقینا اس کے والدین نے چلانے کے لیے چھوٹی سائیکل دلائی ہوگی لیکن جب بچے کے کھیلنے کے لیے گھر کے قریب کوئی میدان اور پارک وغیرہ دستیاب نہ ہو تو پھر وہ گلی محلے کی سڑکوں پر ہی سائیکل چلائے گا جہاں یقیناً حادثات کے امکانات لازمی ہوتے ہیں۔ آج کل تو کراچی جیسے شہر میں بالغ لوگوں کے بھی حادثات صبح شام ہو رہے ہیں ایسے میں بچے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟
اس وقت کراچی جیسے شہر میں بچوں کے کھیل کے میدانوں اور پارک کی شدید کمی ہے گو کہ آج سے 20، 25 سال پہلے بھی شہر میں ضرورت کے مطابق کھیل کے میدان اور پارکس دستیاب نہیں تھے لیکن شہر میں بہت سی خالی جگہیں اور خالی میدان مل جاتے تھے جہاں بچے اپنی سائیکل بھی چلاتے تھے، پتنگ بھی اڑاتے تھے اور کھیل کود کرتے تھے لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں اس شہر میں قبضہ مافیا اور چائنہ کٹنگ وغیرہ کی بدولت شہر بھر میں تعمیرات کا جنگل ابھر کر سامنے آیا ہے۔
لا قانونیت کے اس کھیل کی وجہ سے اب شہر میں کہیں بھی خالی جگہیں، خالی پلاٹ یا میدان وغیرہ نظر نہیں آتے اب تو جو پارکس اور کھیل کے میدان دستیاب ہیں ،ان میں بھی بیشتر مختلف مافیاؤں کے قبضے میں ہیں یعنی کہیں بازار لگتا ہے، کہیں کچرے کوڑے کا ڈھیر ہے۔ جو پارک بہتر حالت میں ہے وہاں پر بچے اپنی مرضی سے کھیل کود نہیں سکتے کیونکہ وہاں کی انتظامیہ نے اپنے ہی قانون بنائے ہوئے ہیں۔ مثلاً نہ وہ سائیکل چلا سکتے ہیں، نہ پتنگ اڑا سکتے ہیں اور بعض پارک میں تو وہ فٹ بال وغیرہ بھی نہیں کھیل سکتے، کہیں جھولے لگا کر کمرشل جگہ بنادی گئی ہے، نارتھ کراچی سیکٹر الیون اے اور بی کے پارک میں تو داخلہ ٹکٹ لیے بغیر بچے پارک میں داخل نہیں ہوسکتے۔
بہر کیف اگر ہم پچھلے تیس سال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کراچی کی آبادی اور اس کے کھلے میدانوں کا سفر دو بالکل مختلف سمتوں میں ہوا ہے۔ 1995 میں کراچی کی آبادی تقریباً 97 لاکھ تھی۔ اس وقت شہر نسبتاً چھوٹا تھا اور کھلے میدان بھی موجود تھے۔ پارکس اور کھیل کے میدانوں کی تعداد اندازاً 300 سے 500 کے درمیان تھی۔ بچے گلیوں کے ساتھ ساتھ مخصوص گراؤنڈز میں بھی کھیل لیا کرتے تھے۔
پھر وقت نے کروٹ لی۔ 2005 تک آبادی بڑھ کر تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہو گئی۔ شہر پھیلنے لگا، نئی آبادیاں وجود میں آئیں اور پارکس کی تعداد بھی بڑھ کر 600 سے 800 تک جا پہنچی۔ بظاہر یہ ترقی تھی، مگر اسی کے ساتھ ایک خاموش تبدیلی بھی شروع ہو چکی تھی۔ زمین مہنگی ہونے لگی اور کھلی جگہیں مافیاؤں کے ہاتھوں میں جانے لگیں۔
2015 میں کراچی کی آبادی دو کروڑ کے قریب پہنچ گئی۔ اس وقت پارکس کی تعداد بڑھ کر 800 سے 1000 کے قریب ہوئی، لیکن یہ اضافہ صرف عددی تھا، عملی نہیں۔ کئی پارکس غیر فعال ہو گئے، کئی پر قبضہ ہو گیا اور کئی صرف کاغذی منصوبے رہ گئے۔ شہر کا نقشہ بدل رہا تھا، مگر شہری منصوبہ بندی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہو سکی۔
2026 میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ آبادی بڑھ کر دو کروڑ سے زائد ہوگئی، بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آبادی ڈھائی کروڑ سے بھی تجاوز کرچکی ہے، جب کہ پارکس اور کھیل کے میدانوں کی مجموعی تعداد 1000 سے 1300 کے درمیان بتائی جاتی ہے، مگر ان میں سے فعال اور واقعی قابل استعمال کھیل کے میدان صرف 300 سے 500 کے درمیان رہ گئے ہیں۔ یعنی شہر میں ’’پارک موجود ہیں‘‘، مگر ’’پارک دستیاب نہیں۔‘‘ کراچی کے علاقے بفرزون میں پارکس تو موجود ہیں مگر زیادہ تر میں ان کے مالی اور کام کرنے والے ملازم نظر نہیں آتے جس کے سبب پارک سرسبز نہیں رہے۔
یہاں سوال صرف تعداد کا نہیں رہتا، بلکہ معیار اور رسائی کا بن جاتا ہے۔ کراچی کے کئی علاقے ایسے ہیں جنھیں آج ہم zero playground zones کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بچوں کے لیے باقاعدہ کھیلنے کی جگہ یا تو ختم ہو چکی ہے یا عملی طور پر موجود نہیں رہی۔لیاری اس کی سب سے نمایاں مثال ہے۔ کبھی یہاں کھلے میدان تھے، اب گنجان آبادی اور عمارتوں نے زمین کو نگل لیا ہے۔ صدر اور پرانا شہر مکمل طور پر تجارتی زون میں بدل چکے ہیں، جہاں کھیلنے کی جگہ کا تصور ہی ختم ہو گیا ہے۔ لیاقت آباد، اورنگی ٹاؤن کے کئی حصے، کورنگی اور لانڈھی کے بعض علاقے بھی اسی بحران کا شکار ہیں۔ یہاں بچے کھیلنے کے لیے سڑکوں یا تنگ گلیوں کا سہارا لیتے ہیں۔یہ صرف شہری بے ترتیبی نہیں، بلکہ ایک گہرا سماجی مسئلہ ہے، کیونکہ جب کھیل کی جگہ کم ہوتی ہے تو بچپن بھی محدود ہو جاتا ہے۔
اب اگر ہم اس مسئلے کو عالمی معیار کے مطابق دیکھیں تو صورتحال اور بھی تشویشناک ہو جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر شہری کے لیے کم از کم 9 مربع میٹر سبز جگہ ضروری ہے۔ کراچی کی موجودہ آبادی کے حساب سے شہر کو تقریباً 166 مربع کلومیٹر گرین اسپیس درکار ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شہر میں فعال گرین اسپیس بمشکل 50 سے 60 مربع کلومیٹر کے درمیان رہ گئی ہے۔ یعنی شہر پہلے ہی اپنے مطلوبہ معیار سے بہت پیچھے ہے،اگر اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے تو کراچی کو کم از کم 111 مربع کلومیٹر اضافی گرین اسپیس کی ضرورت ہے۔ اسے اگر اوسط پارک سائز (تقریباً 20,000 مربع میٹر) میں تقسیم کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شہر کو تقریباً 5500 سے 6000 نئے پارکس درکار ہیں۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک پورے شہری انقلاب کا تقاضا ہے۔
اگر ہم کراچی کے نقشے پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ گرین اسپیس کا نقصان شہر کے مرکزی اور پرانے علاقوں میں ہوا ہے۔ لیاری، صدر، کھارادر، میٹھادر اور گارڈن جیسے علاقے تقریباً مکمل طور پر گرین اسپیس سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیاقت آباد اور اورنگی ٹاؤن جیسے گنجان علاقوں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ صنعتی زونز جیسے کورنگی اور SITE ایریا میں بھی کھلی جگہیں وقت کے ساتھ سکڑتی چلی گئی ہیں۔دوسری طرف کچھ علاقے جو پوش ایریا ہیں، میں نسبتاً بہتر صورتحال موجود ہے، مگر وہاں بھی دباؤ بڑھ رہا ہے اور زمین کا تجارتی استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ کراچی میں گرین اسپیس کا مسئلہ صرف ’’پارکوں کی تعداد‘‘ کا نہیں رہا، بلکہ ’’شہری حق‘‘ کا مسئلہ بن چکا ہے۔ جب کسی شہر میں بچے کھلے میدان سے محروم ہو جائیں تو وہ صرف جسمانی سرگرمی سے نہیں، بلکہ ذہنی سکون اور سماجی توازن سے بھی محروم ہو جاتے ہیں۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پارکس کی کمی صرف ایک شہری منصوبہ بندی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک سماجی ترجیح کا مسئلہ بھی ہے۔ ہم نے زمین کو رہائش اور کاروبار کے لیے زیادہ اہم سمجھا، مگر کھیل اور ماحول کو ثانوی حیثیت دی۔
اگر کراچی کو واقعی ایک جدید اور قابل رہائش شہر بنانا ہے تو اسے صرف نئی عمارتوں کی نہیں بلکہ نئے پارکوں، محفوظ کھیل کے میدانوں اور کھلی جگہوں کی ضرورت ہے اور یہ کام ہزاروں نئے پارکس بنانے سے زیادہ ایک سوچ کی تبدیلی کا تقاضا کرتا ہے اور عوام منتظر ہیں کہ کب ان کے منتخب نمائندوں اور حکمرانوں کی سوچ تبدیل ہوگی۔