سندھ حکومت کا ارسا پر پانی کی کٹوتی کا سنگین الزام، صورتحال کو تشویشناک قرار دے دیا

تربیلا، منگلا میں پانی وافر ہونے کے باوجود سندھ کے حصے کی کٹوتی کی جارہی ہے، صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو

سندھ حکومت نے ارسا کی جانب سے پانی کی قلت اور معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پانی کی فوری بحالی کا مطالبہ کردیا۔

حکومتِ سندھ نے خریف کی بوائی کے انتہائی اہم سیزن کے دوران صوبے میں پانی کی شدید اور مصنوعی قلت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے 1991 کے واٹر ایپروپریئشن اکارڈ (پانی کے معاہدے) کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سندھ کے کاشتکاروں کو ان کے جائز حصے کے پانی سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔

​وزیر آبپاشی جام خان شورو نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تربیلا، منگلا اور چشمہ کے ذخائر میں 4.019 ملین ایکڑ فٹ (MAF) سے زائد وافر پانی موجود ہونے کے باوجود ارسا (IRSA) نے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں کٹوتی کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی خریف سیزن 2026 کے دوران، ارسا (IRSA) نے ماہِ مئی میں اور تاحال صوبہ سندھ کی جانب سے طلب کردہ پانی کی فراہمی کو پورا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 6 جون سے 10 جون 2026 کے دوران سندھ کی 145,000 کیوسک کی جائز طلب کے مقابلے میں چشمہ سے ڈاؤن اسٹریم ریلیز کو محدود کر کے صرف 120,000 کیوسک کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے جون کے پہلے عشرے میں سندھ کو مجموعی طور پر 40 فیصد کے بڑے شارٹ فال کا سامنا ہے۔

صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ اپریل کے مہینے میں غیر معمولی بارشوں کے باعث سندھ کے بیراجوں پر عارضی طور پر جو اضافی پانی موصول ہوا تھا، اسے ارسا نے سندھ کے پانی کے کھاتے میں شامل کر کے اب خریف کے سیزن میں صوبے پر مصنوعی قلت مسلط کر دی ہے، جو کہ کسی صورت درست نہیں ہے۔

جام خان شورو کا کہنا تھا کہ​ حکومتِ سندھ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ایک طرف سندھ کے بیراجوں پر پانی کی شدید کمی ہے تو دوسری طرف چشمہ جہلم (CJ) اور تونسہ پنجند (TP) لنک نہریں بالترتیب 16,500 کیوسک اور 10,816 کیوسک کی اپنی مکمل گنجائش کے قریب چلائی جا رہی ہیں، جس سے دریائے سندھ کے مرکزی بہاؤ کا پانی پنجاب کے معاون دریاؤں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔​

صوبائی وزیر نے دونوں صوبوں کے درمیان پانی کی دستیابی کے سرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ​سندھ کے بیراجوں پر پانی کی مجموعی دستیابی 106,340 کیوسک کے مقررہ کوٹے کے برخلاف صرف 64,093 کیوسک ہے، جو کہ 40 فیصد کی شدید کمی ہے۔

جام خان شورو کا کہنا تھا کہ ​گڈو بیراج پر28,340 کیوسک کے کوٹے کے مقابلے میں صرف 20,518 کیوسک پانی 28 فیصد کمی کے ساتھ مل رہا ہے۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ ​سکھر بیراج پر 51,100 کیوسک کے کوٹے کے مقابلے میں صرف 32,120 کیوسک پانی دستیاب ہے (37 فیصد کمی) ہے، جبکہ ​کوٹری بیراج پر 26,900 کیوسک کے مختص حصے کے مقابلے میں صرف 11,455 کیوسک پانی دیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے 57 فیصد کی بڑی کٹوتی ہے۔

جام خان شورو کا کہنا تھا کہ ​اس کے برعکس، پنجاب کو اپنے 109,100 کیوسک کے کوٹے کے مقابلے میں 98,812 کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جہاں پانی کی قلت صرف 9 فیصد ہے۔ ​

جام خان شورو نے خبردار کیا کہ سکھر بیراج کے رائٹ بینک کینال سسٹم میں پانی کی یہ صورتحال سکھر، لاڑکانہ، دادو، شکارپور، قمبر شہدادکوٹ اور بلوچستان کے کمانڈ ایریاز کی لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت ​دادو کینال 4,995 کیوسک کے کوٹے کے مقابلے میں صرف 860 کیوسک پر چل رہی ہے 83 فیصد شارٹ فال ہے۔ وزیر آبپاشی کا کہنا تھا کہ ​شمال مغربی کینال (NWC): 4,260 کیوسک کے بجائے صرف 2,100 کیوسک ملنے پر 51 فیصد کمی کا شکار ہے جبکہ رائس کینال پر 8,700 کیوسک کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 5,300 کیوسک پانی دیا جا رہا ہے جو کہ 39 فیصد کی کمی ہے۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ ​حکومتِ سندھ وفاقی حکومت اور ارسا سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر چشمہ سے ڈاؤن اسٹریم پانی کی فراہمی کو سندھ کی انڈنٹ کے مطابق بحال کرے اور چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند لنک نہروں کے آپریشنز کو فوری طور پر بند کیا جائے۔

​جام خان شورو نے سندھ حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے آبی حقوق کا تحفظ اور لاکھوں کاشتکاروں کے روزگار کا دفاع ہمارا اولین فرض ہے، اور اس مقصد کے لیے حکومتِ سندھ ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر اپنا احتجاج جاری رکھے گی۔

Load Next Story