اسرائیلی بربریت کو روکا جائے
اسرائیل اس سے پہلے بھی ایسے ہی بہانوں کی آڑ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے ...
اسرائیل اس سے پہلے بھی ایسے ہی بہانوں کی آڑ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے. فوٹو؛ فائل
اقوام عالم کے مذمتی بیانات اور مسلم ممالک کی روایتی ناراضگی اور غم و غصے کے اظہار کے باوجود اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حماس اور اسرائیل میں عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیلی فوج نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ پر دوبارہ حملے شروع کردیے ہیں جس کے نتیجے میں بدھ کو 24 فلسطینی شہید جب کہ 120 زخمی ہوگئے۔
فلسطینی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں حماس کے ملٹری چیف محمد دیف کی اہلیہ اور بچہ بھی شامل ہے، جس کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 38 جب کہ 10 ہزار 300 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں بزرگ خواتین اور بچوں سمیت ایک حاملہ عورت بھی شامل ہے۔ یہ سراسر مسلم نسل کشی کے مترادف ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اسرائیل خود کو مظلوم بنا کر پیش کررہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کی طرف سے اسرائیل پر کم ازکم 40 راکٹ داغے جانے کے بعد غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، فوج کے مطابق یہ راکٹ جنوبی شہروں بئرالسبع، عسقلان اور مرکزی شہر یروشلم کے قریب داغے گئے، جب کہ دوسری جانب حماس کے عہدیداروں نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کے الزام کو مسترد کردیا ہے ۔حماس کے ترجمان سمیع ابوظہری نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں کا مقصد قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات سے نکلنا تھا۔
اسرائیل اس سے پہلے بھی ایسے ہی بہانوں کی آڑ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور معصوم اور نہتے شہریوں پر حملے کرکے عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی اصول و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتا اور اس کا مقصد محض مسلم نسل کشی ہے۔ غزہ پر مسلسل حملے انسانیت کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کا کھلا ثبوت ہیں، اسرائیل کے ہر اقدام سے یہ بات واضح ہے کہ وہ کسی تنقیدی فورم، پارلیمنٹ کی قرارداد اور احتجاجی مظاہروں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔
آخر اسرائیل دنیا بھر کے احتجاج کو خاطر میں کیوں نہیں لا رہا،وہ بخوبی جانتا ہے کہ امریکا اور دنیا کی بڑی قوتیں اس کے ساتھ ہیں اور نہتے فلسطینی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔امریکی صدر بارک اوباما بھی اسرائیل کی حمایت کر چکے ہیں،اقوام متحدہ بھی اس مسئلے پر بے بس دکھائی دیتی ہے، عرب لیگ اور او آئی سی بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔اگر عرب لیگ کا کردار ہی جان دار ہوتا تو بھی اسرائیل کو فلسطینیوں پر حملے کی جرات نہ ہوتی۔اسرائیل کے پاس جدید ترین ہتھیار اور ٹیکنالوجی ہے جب کہ اس کے مقابل فلسطینی نہتے ہیں۔
عالمی ضمیر کی بے حسی فلسطینیوں کے مسئلے پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا اسرائیل کا جب جی چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے اور ان کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔ فلسطینی اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے اور آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے۔ اسرائیل کی اس ننگی جارحیت پر ہر معصوم دل مغموم اور دنیا بھر کے امن پسند عوام اس مذمومانہ فعل کی مخالفت کر رہے ہیں۔
صرف مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی جانب سے بھی اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے، احتجاجی مظاہرے اور مذمتی بیانات جاری ہیں لیکن اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، وہ اپنی ڈگر پر مسلسل چلے جا رہا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی عزائم کے خلاف احتجاج اور مذمتی بیانات سے آگے بڑھا جائے ۔ اسرائیلی جنگی جنون کا راستہ روکنے کے لیے مسلم دنیا کو فی الفور واضح لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔
تمام مسلم امہ اور عالمی برادری اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائے اور پوری شدت سے اسرائیلی بربریت کو روکا جائے۔اسرائیلی جارحیت ،بربریت اور غیر انسانی طرز عمل کا راستہ نہ روکا گیا تو مشرق وسطیٰ کو انتقام ، انتہا پسندی اور بدامنی کی آگ مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔اس اندوہ ناک وقت سے پہلے عالمی برادری اسرائیل کو لگام دے ۔
فلسطینی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اشرف القدرہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں حماس کے ملٹری چیف محمد دیف کی اہلیہ اور بچہ بھی شامل ہے، جس کے بعد غزہ پر اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2 ہزار 38 جب کہ 10 ہزار 300 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔ تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں بزرگ خواتین اور بچوں سمیت ایک حاملہ عورت بھی شامل ہے۔ یہ سراسر مسلم نسل کشی کے مترادف ہے لیکن بین الاقوامی میڈیا کے سامنے اسرائیل خود کو مظلوم بنا کر پیش کررہا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کی طرف سے اسرائیل پر کم ازکم 40 راکٹ داغے جانے کے بعد غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، فوج کے مطابق یہ راکٹ جنوبی شہروں بئرالسبع، عسقلان اور مرکزی شہر یروشلم کے قریب داغے گئے، جب کہ دوسری جانب حماس کے عہدیداروں نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کے الزام کو مسترد کردیا ہے ۔حماس کے ترجمان سمیع ابوظہری نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں کا مقصد قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات سے نکلنا تھا۔
اسرائیل اس سے پہلے بھی ایسے ہی بہانوں کی آڑ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرچکا ہے اور معصوم اور نہتے شہریوں پر حملے کرکے عالمی برادری کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی اصول و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتا اور اس کا مقصد محض مسلم نسل کشی ہے۔ غزہ پر مسلسل حملے انسانیت کے خلاف اسرائیل کے جنگی جرائم کا کھلا ثبوت ہیں، اسرائیل کے ہر اقدام سے یہ بات واضح ہے کہ وہ کسی تنقیدی فورم، پارلیمنٹ کی قرارداد اور احتجاجی مظاہروں کو درخور اعتنا نہیں سمجھتا۔
آخر اسرائیل دنیا بھر کے احتجاج کو خاطر میں کیوں نہیں لا رہا،وہ بخوبی جانتا ہے کہ امریکا اور دنیا کی بڑی قوتیں اس کے ساتھ ہیں اور نہتے فلسطینی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔امریکی صدر بارک اوباما بھی اسرائیل کی حمایت کر چکے ہیں،اقوام متحدہ بھی اس مسئلے پر بے بس دکھائی دیتی ہے، عرب لیگ اور او آئی سی بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔اگر عرب لیگ کا کردار ہی جان دار ہوتا تو بھی اسرائیل کو فلسطینیوں پر حملے کی جرات نہ ہوتی۔اسرائیل کے پاس جدید ترین ہتھیار اور ٹیکنالوجی ہے جب کہ اس کے مقابل فلسطینی نہتے ہیں۔
عالمی ضمیر کی بے حسی فلسطینیوں کے مسئلے پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا اسرائیل کا جب جی چاہتا ہے وہ کسی نہ کسی بہانے کی آڑ میں فلسطینیوں پر حملے اور ان کا قتل عام شروع کر دیتا ہے۔ فلسطینی اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھانے اور آنسو بہانے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے۔ اسرائیل کی اس ننگی جارحیت پر ہر معصوم دل مغموم اور دنیا بھر کے امن پسند عوام اس مذمومانہ فعل کی مخالفت کر رہے ہیں۔
صرف مسلم ممالک ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی جانب سے بھی اسرائیلی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے، احتجاجی مظاہرے اور مذمتی بیانات جاری ہیں لیکن اسرائیل کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، وہ اپنی ڈگر پر مسلسل چلے جا رہا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی عزائم کے خلاف احتجاج اور مذمتی بیانات سے آگے بڑھا جائے ۔ اسرائیلی جنگی جنون کا راستہ روکنے کے لیے مسلم دنیا کو فی الفور واضح لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔
تمام مسلم امہ اور عالمی برادری اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف متحد ہوجائے اور پوری شدت سے اسرائیلی بربریت کو روکا جائے۔اسرائیلی جارحیت ،بربریت اور غیر انسانی طرز عمل کا راستہ نہ روکا گیا تو مشرق وسطیٰ کو انتقام ، انتہا پسندی اور بدامنی کی آگ مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔اس اندوہ ناک وقت سے پہلے عالمی برادری اسرائیل کو لگام دے ۔