اساتذہ کی تاریخی جدوجہد

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں انتظامی، علمی اور تدریسی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔ سندھ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔

ملک بھر کی سرکاری جامعات میں انتظامی، علمی اور تدریسی صورتحال بہتر نہیں ہے ۔ سندھ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے حالات کار کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

ان کی ہڑتال کو 40 دن ہوگئے ہیں مگران کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جا رہی۔ انجمن اساتذہ کئی برسوں سے ہاؤس سیلنگ الاؤنس، شام کی تدریس کے معاوضوں، یونیورسٹی اکاؤنٹس کا فارنزک آڈٹ اورزیرالتواء اساتذہ کی ترقیوں کے سلسلے میں سلیکشن بورڈ کے انعقاد اور لیو ان کیش منٹ کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہی ہے مگر اساتذہ اور غیرتدریسی ملازمین کے ان مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ موجودہ دور میں اشیاء ضرورت کی قیمتیں تو ہمیشہ سے زیادہ ہی رہی ہیں مگر پیٹرول کے نرخ میں اضافہ اور سی این جی کی بندش نے ملازمین کے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔

انجمن اساتذہ کے رہنماؤں نے یونیورسٹی کے انتظامی عہدیداروں سے کئی بار مذاکرات کیے لیکن معاملات جوں کے توں رہے۔ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وہاب کے دور میں ایوننگ پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کی فیس صبح کے پروگرام کے مقابلہ میں خاصی زیادہ رکھی گئی تھی اور اس بات کو واضح کیا گیاتھا کہ ایوننگ پروگرام خود کفیل ہوگا اور اساتذہ اور انتظامی عملہ کو تنخواہ سے علیحدہ معاوضے کی ادائیگی کی جائے۔ کراچی یونیورسٹی کا مالیاتی نظام جب تک بہتر تھا، ایوننگ پروگرام میں اساتذہ اور انتظامی افسران ودیگر عمال کو معقول رقم مل جاتی تھی مگر پھر نامعلوم وجوہات کی بناء پر تمام ادائیگیاں بند کردی گئیں۔

اساتذہ اور دیگر ملازمین فرائض انجام دیتے رہے مگر معاوضوں کی ادائیگی کا معاملہ فائلوں میں دبا رہا مگر چند منظورِ نظر اساتذہ کو ہر سمسٹر کے اختتام پر ادائیگی ہوتی رہی۔ اگرچہ یونیورسٹی نے ایوننگ پروگرام کے بلوں کی عدم ادائیگی کے مسئلہ پر کبھی کوئی وضاحت پیش نہیں کی مگر غیررسمی طور پر مالیاتی خسارہ کو اس صورتحال کا ذمے دار قرار دیا گیا۔انجمن اساتذہ مالیاتی بدنظمی اور غیرضروری اخراجات کو اس صورتحال کی وجوہات بتاتی ہے۔ پاکستان کی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے تقرر اور اور ان کی ترقیوں کا طریقہ کار خاصا پیچیدہ ہے۔ پہلے مختلف اسامیوں کے لیے اشتہار کا اجراء ہوتا ہے۔ ایک مقررہ تاریخ تک اہل افراد اپنی درخواستوں کے ساتھ متعلقہ دستاویزات جمع کرواتے ہیں۔

درخواستوں کی قواعد وضوابط کے تحت اسکروٹنی ہوتی ہے۔ ایسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر کے لیے ہر امیدوار کے عالمی معیار کے جرائد میں تحقیقی مقالے شائع ہونا ضروری ہیں۔ انتظامیہ ر امیدوار کے تحقیقی مقالہ جات امریکا اور یورپی ممالک کے ماہرین کو بھیج دیتی ہے۔ پھر ان ماہرین کی رپورٹوں کو سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ سلیکشن بورڈ غیرملکی ممتحن کی رپورٹوں کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہے مگر یہ سارا عمل مہینوں اور کہیں تو برس پر محیط ہوتا ہے۔ کئی اساتذہ سلیکشن بورڈ کے انعقاد کے انتظار میں ریٹائر ہو جاتے ہیں اور کچھ تو انتقال کرجاتے ہیں لہٰذا زیر التواء سلیکشن بورڈ کا فوری انعقاد ہونا چاہیے۔

کراچی یونیورسٹی کے کئی تدریسی شعبہ جات میں اساتذہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے اور بعض اساتذہ 10,10 برسوں تک کوآپریٹو ٹیچر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اگر ان کا سلیکشن بورڈ فوراً ہو جائے تو نوجوان اہل اساتذہ کا تقرر ہوسکے۔ یونیورسٹی کے اکاؤنٹس کا فرانزک آڈٹ بھی کرایا جانا چاہیے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ہر سال کراچی یونیورسٹی کو گرانٹ دیتا ہے۔ حکومت سندھ بھی گرانٹ دیتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 40 ہزار کے قریب طلبہ یونیورسٹی کے مختلف پروگراموں کے علاوہ یونیورسٹی کے الحاق شدہ کالجوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان طلبہ سے بھی فیس کی مد میں کروڑوں روپے ملتے ہیں۔اس صورتحال میں مالیاتی خسارہ کا معاملہ خاصا پیچیدہ ہوجاتا ہے۔

کراچی یونیورسٹی کے اساتذہ نے ہمیشہ علمی آزادی کے تحفظ اور اساتذہ کے حالاتِ کار کو بہتر بنانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی ہے۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ظفر عارف اور سیکریٹر ی جنرل پروفیسر سکندر مہدی کی قیادت میں دس، دس سال سے ایڈہاک پر کام کرنے والے اساتذہ کو مستقل کرنے کے لیے تحریک چلائی گئی اور حکومت کو ان تمام اساتذہ کو مستقل کرنا پڑا تھا۔ جب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کو پاکستان کی یونیورسٹیوں میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تو کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی پاکستان کی تمام یونیورسٹیوںکی ٹیچرز سوسائٹیز میں سب سے آگے تھی جس نے ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کو مسترد کیا اور اس تحریک کے نتیجے میں حکومت کو اپنی پالیسی تبدیل کرنا پڑی۔

ضروری ہے کہ حکومت سندھ اساتذہ کے مطالبات کی منظوری کے لیے جلدازجلداقدامات کرے۔ جتنی دیر ہوگی اتنا ہی طلبہ کا نقصان زیادہ ہوگا۔

Load Next Story