ایران کو کل مارا تھا آج بھی شدید حملے کریں گے؛ ٹرمپ کی دھمکی
ایران پر کل حملے کیے اور آج بھی تابڑ توڑ حملے جاری رکھیں گے؛ صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر تازہ حملوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا آج بھی ایران کو سخت ضرب لگائے گا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ایک اچھے معاہدے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے لیکن ایران مسلسل وقت گزاری اور تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم دیکھیں گے کیا ہوتا ہے لیکن ہم نے ایران کو کل بھی نشانہ بنایا تھا اور آج بھی ان پر بھرپور حملہ کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ کئی ماہ سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں مصروف تھے اور اب تک معاہدے پر دستخط ہو جانے چاہئیں تھے کیونکہ یہ ایک اچھا معاہدہ تھا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران دراصل امریکا کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہا ہے اور سنجیدہ پیش رفت کے بجائے مذاکرات کو طول دے رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کے تحت مستقبل میں کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانا مکمل طور پر ممنوع ہوتا۔
یاد رہے کہ پرسوں آبنائے ہرمز پر امریکی فوج کے ایک اپاچی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا جو سمندر برد ہوگیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس کا الزام ایران پر عائد کیا تھا۔
ہیلی کاپٹر حملے کے جواب میں گزشتہ روز امریکی فوج نے ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا تھا جس پر ایران بھی خاموش نہ رہا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے تھے۔
جس کے بعد امریکی فوج نے اعلان کیا تھا کہ ایران پر حملے اب مکمل ہوچکے ہیں اور یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں اچانک ابھرنے والی اس کشیدگی میں کمی واقع ہوجائے گی۔