امریکا کا خلیج عمان پر ایران تیل جانے والے آئل ٹینکر پر حملہ؛ 3 بھارتی ملاح لاپتا

بھارت نے امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا

امریکا کا تیل ایران لے جانے کے الزام پر خلیج عمان میں آئل ٹینکر پر حملہ

امریکی فوج نے ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی کے دوران خلیج عمان میں ایک کمرشل آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا جس کے بعد اس میں سوار تین بھارتی لاپتا ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز کی تنبیہ کو نظر انداز کرنے پر اسیٹیبیلو نامی پالاؤ کے پرچم بردار آئل اور کیمیکل ٹینکر کے انجن کو نشانہ بنایا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاز اس حملے کے بعد چلنے سے قاصر ہوگیا۔ جس کے ذریعے مبینہ طور پر ایران سے تیل کی ترسیل جاری تھی حالانکہ امریکا نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور ناکہ بندی بھی ہے۔

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس آئل ٹینکر پر 24 بھارتی ملاحوں میں سے 21 کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ تین افراد تاحال لاپتا ہیں۔

عمان میں بھارتی سفارت خانہ مقامی حکام کے ساتھ مل کر تینوں بھارتیوں کی تلاش میں جاری ریسکیو آپریشن کی نگرانی کر رہا ہے۔

بھارت نے امریکی چیف آف مشن کو طلب کرلیا

 

بھارت نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا۔

بھارتی حکومت نے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

حملے کے وقت کیا ہوا؟

بحری آمدورفت پر نظر رکھنے والے برطانوی ادارے (UKMTO) کے مطابق آئل ٹینکر نے عمان کی بندرگاہ صحار سے تقریباً 20 بحری میل شمال مشرق میں انجن روم میں آگ لگنے کی اطلاع دی تھی۔

ابتدائی اطلاعات میں ایک ہلاکت یا زخمی ہونے کا بھی ذکر کیا گیا تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ شخص لاپتا افراد میں شامل ہے یا بچ جانے والوں میں سے ہے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی تھی جب کہ بھارت کی جانب سے بھی کسی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ کمپنی وینگارڈ کے مطابق عمانی بحریہ نے ہنگامی سگنل موصول ہونے کے بعد فوری امدادی کارروائی شروع کی۔

امریکی ناکہ بندی کا پس منظر

امریکا نے 13 اپریل کو ایران سے متعلق بحری تجارت کے خلاف ناکہ بندی کا آغاز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو شدید متاثر کیا جس کے جواب میں ایران سے منسلک بحری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی کے دوران اب تک 8 ایسے جہاز غیر فعال کیے جا چکے ہیں جنھوں نے امریکی احکامات پر عمل نہیں کیا جب کہ 134 جہازوں کا رخ تبدیل کروایا گیا اور 42 امدادی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔

 

 

Load Next Story