ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش؛ ورلڈ بینک نے خطرے کی گھنٹی بجادی

عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہونے سے آنے والا مہنگائی کا سیلاب سب بہالے جائے گا

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں تیزی اور مہنگائی کے دباؤ سے عالمی معیشت کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ گلوبل اکنامک پراسپیکٹس رپورٹ 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی اقتصادی ترقی کی شرح کم ہو کر 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ شرح کورونا وبا کے بعد عالمی ترقی کی کم ترین سطحوں میں سے ایک ہے جب کہ گزشتہ برس  گزشتہ سال یہ شرح 2.9 فیصد تھی جب کہ 2026 میں اوسط افراطِ زر تقریباً 4 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

علاوہ ازیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث تیل اور گیس کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے دنیا بھر میں مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کیا جسے قابو میں رکھنے کے لیے مرکزی بینک شرح سود بڑھا سکتے ہیں جو قرضوں کے اخراجات میں اضافے اور معاشی سرگرمیوں میں سست روی کا باعث بنیں گے۔

عالمی بینک نے کہا کہ امریکا ایران جنگ سے پیدا ہونے والے بحران سے سب سے زیادہ متاثر ترقی پذیر ممالک ہوں گے جن کی مدد کے لیے فوری طور پر 60 ارب ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی اس مالی معاونت میں آئندہ 15 ماہ کے دوران یہ رقم 60 ارب ڈالر سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر تک کی جا سکتی ہے تاکہ کمزور معیشتوں کو تیل، گیس اور بجلی کی بلند قیمتوں اور مہنگائی سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا تو عالمی تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کی سپلائی چین کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں معاشی ترقی کی رفتار مزید متاثر ہونے کا امکان ہے۔

 

 

Load Next Story