جنگ کے بعد ایران اور متحدہ عرب امارات کے سیکیورٹی حکام کی پہلی براہِ راست ملاقات
متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان حالیہ امریکا اسرائیل جنگ کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے تھے
ایران اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سیکیورٹی حکام کے درمیان اہم براہِ راست ملاقات ہوئی ہے جسے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ جنگ کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ملاقات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں ممکنہ سفارتی راستوں کو تلاش کرنے کے مقصد سے کی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات رواں ہفتے ایک خفیہ مقام پر ہوئی جہاں دونوں فریقوں نے علاقائی سلامتی، خلیج کی صورتحال اور سمندری راستوں کے تحفظ سمیت متعدد اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور یو اے ای کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری تنازعات کے اثرات کو محدود کرنے اور خلیجی ممالک کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی رابطوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
ملاقات میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، توانائی کی ترسیل اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات بھی زیر بحث آئے۔
اگرچہ ایران اور یو اے ای کے درمیان بعض علاقائی مسائل پر اختلافات موجود رہے ہیں تاہم گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
سفارتی روابط کی بحالی، اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور اقتصادی تعاون میں اضافے نے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کردار ادا کیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک موجودہ بحران کے دوران براہِ راست رابطے برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ غلط فہمی یا غیر متوقع کشیدگی سے بچا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تناؤ بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
دوسری جانب متعدد عرب ممالک سفارتی ذرائع سے خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے سرگرم ہیں۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اس جنگ کے دوران ایران پر ملکی سلامتی و خود مختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حملوں کا الزام عائد کیا تھا جب کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ صرف امریکی مفادات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔