مغربی کنارے میں یہودی آبادکار کا ذہنی معذور فلسطینی نوجوان پر تشدد اور فائرنگ

29 سالہ فلسطینی نوجوان ذہنی معذوری کا شکار ہے۔ جس کے پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگی تھیں

یہودی آبادکار کی ذہنی معذور فلسطینی نوجوان پر تشدد اور فائرنگ

مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں ایک اسرائیلی آبادکار کی فائرنگ سے 29 سالہ فلسطینی نوجوان زخمی ہوگیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ یہ واقعہ شمالی مغربی کنارے کے گاؤں دوما کے قریب ایک زرعی چوکی کے نزدیک پیش آیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ فلسطینی نوجوان ہاتھوں میں ایک بڑا پتھر لیے وہاں پہنچا تھا اور اس نے غیر معمولی اور مشتبہ رویہ اختیار کر رکھا تھا۔ جس پر یہودی آبادکار نے خود کو خطرے میں محسوس کیا اور نوجوان پر فائرنگ کر دی۔

ترجمان اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کا مقصد فلسطینی نوجوان کو پیچھے دھکیلنا تھا تاکہ یہودی آبادکار خود کو کسی ممکنہ حملے سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا۔

دوسری جانب فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے ہلال احمر کے طبی عملے کے حوالے سے بتایا ہے کہ زخمی ہونے والا 29 سالہ فلسطینی نوجوان ذہنی معذوری کا شکار ہے۔ جس کے پیٹ اور ٹانگ میں گولیاں لگی تھیں۔

فلسطینی اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کی ذہنی حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ عالمی برادری اس کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اسرائیل پر انسانی حقوق کی پاسداری کے یقینی بنانے پر زور دیں۔

تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے زخمی فلسطینی کی ذہنی معذوری سے متعلق دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں جب کسی ذہنی معذور کو نشانہ بنایا گیا ہو۔

 

Load Next Story