کاکروچ جنتا پارٹی کا پاور شو؛ 5 نکاتی تعلیمی منشور؛ پرچہ لیک ہونے پر معاوضے کا مطالبہ
نوجوانوں کی ابھرتی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی مودی سرکار کیلیے درد سر بن گئی
بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ریاست اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس احتجاج میں طلبا، سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں اور نوجوان کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں امتحانی نظام سنگین مسائل کا شکار ہے اور بار بار پرچہ لیک ہونے، نتائج میں تاخیر اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریک مکمل طور پر پرامن ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں کے مسائل کو جمہوری اور آئینی طریقے سے اجاگر کرنا ہے۔
ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ نوجوان متحد ہو کر اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں تاکہ پالیسی ساز ادارے ان کے مطالبات سننے پر مجبور ہوں۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے تعلیمی اصلاحات کے لیے 5 نکاتی منشور بھی پیش کیا۔ مظاہرے کے دوران شرکا نے حکومت سے تعلیمی اور امتحانی نظام میں فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
جس میں پرچہ لیک ہونے پر متاثرہ امیدواروں کو 10 ہزار روپے معاوضہ دینے، امتحانی نتائج ایک ماہ کے اندر جاری کرنے، امتحانی ٹھیکوں اور ٹینڈرز کا آزادانہ آڈٹ کرانے، نظام میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کے مطالبات شامل ہیں۔
تنظیم نے اعلان کیا ہے کہ لکھنؤ کے بعد امرتسر، بنگلورو اور نئی دہلی سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مہم چلائی جائے گی۔ سی جے پی نے ملک بھر کے نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 20 جون کو نئی دہلی میں ہونے والے بڑے احتجاج میں شرکت کریں۔
سی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ نوجوانوں کی اپنی تحریک ہے جس کا مقصد تعلیمی نظام میں اصلاحات اور سرکاری بھرتیوں کے عمل کو شفاف بنانا ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوجوانوں کے مستقبل سے جڑے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے قیام کا دلچسپ پس منظر
کاکروچ جنتا پارٹی ایک احتجاجی تحریک کے طور پر اس وقت وجود میں آئی جب بھارت میں اعلیٰ عدلیہ سے منسوب ایک مبینہ متنازع بیان سامنے آیا، جس میں بے روزگار نوجوانوں کے لیے "کاکروچ" کا لفظ استعمال کیے جانے پر شدید ردعمل پیدا ہوا۔
اس بیان کو نوجوان طبقے کی توہین کے طور پر دیکھا گیا اور ملک بھر میں اس کے خلاف غم و غصہ بڑھ گیا. طلبا، سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں اور سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر منظم ہو کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنایا.
جو بعد میں "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ اس کی بنیاد سماجی کارکن اور یوٹیوبر ابھیجیت دیپکے نے رکھی۔اس تحریک کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے حقوق، روزگار کے مواقع اور تعلیمی و بھرتی کے نظام میں شفافیت کے مطالبات کو اجاگر کرنا تھا۔